آندھراپردیش میں نائیٹ کرفیو نافذ، خلاف ورزی پر چالان

   

مذہبی مقامات میں سماجی دوری کی ہدایت، ماسک کا استعمال لازمی، چیف منسٹر جگن کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔10۔ جنوری (سیاست نیوز) ملک بھر میں کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر آندھراپردیش حکومت نے کیسس پر قابو پانے کیلئے نائیٹ کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس میں یہ اعلان کیا ۔ عہدیداروں نے کورونا کی تازہ ترین صورتحال پر چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ کیسوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عوام کی سرگرمیوں کو روکنے رات 11 بجے سے دوسرے دن صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ماسک کے استعمال اور سماجی دوری پر سختی سے عمل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماسک کے عدم استعمال پر جرمانہ عائد کیا جائیگا ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ تجارتی اداروں ، دکانات اور تجارتی مراکز پر کووڈ قواعد کے نفاذ پر توجہ دیں ۔ کھلے مقامات پر 200 افراد جبکہ بند مقامات پر 100 افراد کی اجازت رہے گی۔ تھیٹرس میں 50 فیصد نشستوں کی اجازت رہیگی اور ہر شخص کیلئے ماسک کا استعمال لازمی رہے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں میں ماسک استعمال کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری پر عمل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کیلئے درکار ادویات کی سربراہی کو یقینی بنائیں اور سرکاری دواخانوں میں انفراسٹرکچر اور ادویات کی کوئی قلت نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی ماہرین سے مشاورت کے بعد اومی کرون پر اثر کرنے والی دواؤں کا انتظام کیا جائے ۔ ضرورت پڑنے پر حکومت کی سطح پر دوائیں خریدی جائیں۔ انہوں نے 104 کال سنٹرس کو متحرک کرنے کی اہدایت دی۔ کسی بھی کالر کی شکایت یا نمائندگی پر فوری کارروائی کی جائے۔ جگن موہن ریڈی نے ہر اسمبلی حلقہ میں کووڈ کیر سنٹر کے قیام کا مشورہ دیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کووڈ قواعد پر موثر عمل آوری کے ذریعہ کورونا کی تیسری لہر پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر نے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ نائیٹ کرفیو کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط علحدہ طور پر جاری کریں۔ ر