حیدرآباد۔16۔نومبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش میں تین نئے دارالحکومتوں کے قیام کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر کل سے روزانہ کی اساس پر سماعت شروع ہوچکی ہے۔ سماعت کے آج دوسرے دن چیف جسٹس پرکاش کمار مشرا نے تین علحدہ دارالحکومتوں کے قیام کے بارے میں سخت ریمارکس کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 30,000 کسانوں نے امراوتی میں دارالحکومت کے قیام کے لئے رضاکارانہ طور پر اپنی اراضیات حوالے کی ہیں۔ امراوتی کے کسان علحدہ دارالحکومت نہیں بلکہ آندھراپردیش کیلئے ایک ہی دارالحکومت چاہتے ہیں۔ وشاکھاپٹنم اور کرنول اگرچہ آندھراپردیش کا حصہ ہے لیکن کسانوں کی خواہش ایک دارالحکومت کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران مجاہدین آزادی نے صرف اپنے لئے لڑائی نہیں کی بلکہ ملک کے عوام کیلئے جدوجہد کی ہے۔ واضح رہے کہ امراوتی کیلئے اراضیات کی خریدی کے باوجود تین مختلف دارالحکومتوں کے قیام سے متعلق جگن موہن ریڈی حکومت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔ اسی دوران آندھراپردیش کے وزیر زراعت کنا بابو نے کہا کہ ریاست میں بہر صورت تین علحدہ دارالحکومت قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے چناؤ میں وائی ایس آر کانگریس کو 85 فیصد عوام کی تائید خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے عوام تین مختلف دارالحکومتوں کے قیام کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات اور سہولتوں کے تحت جگن موہن ریڈی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ کنا بابو نے کہا کہ تینوں علاقوں کی یکساں طور پر ترقی کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ کنا بابو نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس سلسلہ میں اعتراضات کو مسترد کردیا ۔ ر