آندھراپردیش کی مساجد میں 50 افراد کے ساتھ نماز عیدالفطر کی اجازت

   

دوپہر 12 بجے تک زائد جماعتوں کے اہتمام کا مشورہ ، سرکاری احکامات کی اجرائی
حیدرآباد: آندھراپردیش حکومت نے مساجد میں 50 افراد کے ساتھ نماز عیدالفطر کی ادائیگی کی اجازت دی ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود محمد الیاس رضوی کی جانب سے جی او آر ٹی 51 کے تحت نماز عیدالفطر کی گائیڈ لائینس کا اعلان کیا گیا ۔ حکومت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے دوپہر 12 بجے سے دوسرے دن صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کیا ہے جو 18 مئی تک جاری رہے گا۔ عیدالفطر کے پیش نظر حکومت نے کورونا گائیڈ لائینس کے مطابق نماز کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ عیدگاہوں اور کھلے مقامات پر نماز عیدالفطر کی ادائیگی پر پابندی رہے گی ۔ تاہم مساجد میں 50 افراد کے ساتھ کووڈ قواعد کو ملحوظ رکھتے ہوئے نماز کے اہتمام کی اجازت رہے گی ۔ صفوں میں سماجی فاصلہ کی برقراری کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مختلف اوقات میں زائد جماعتوں کا اہتمام کیا جاسکتا ہے ۔ صبح 6 بجے تا دوپہر 12 بجے تک مساجد میں نماز عیدالفطر کی اجازت رہے گی۔ ہر مصلی کو گھر سے باوضو اور جائنماز کے ساتھ مسجد پہنچنا ہوگا۔ مساجد کمیٹیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ باب الداخلہ پر سینیٹائز کا انتظام کریں۔ امام اور خطیب حضرات سے مختصر خطبہ کی اپیل کی گئی ہے۔ ضعیف العمر افراد ، بچے اور ایسے افراد جنہیں کھانسی ، سردی اور بخار ہو انہیں گھر پر نماز ادا کرنا چاہئے ۔ شوگر ، ہائی بی پی اور امراض قلب کا شکار افراد کو بھی گھر پر نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ نماز کے بعد مصافحہ اور معانقۂ کے علاوہ عید ملاپ سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔ آندھراپردیش حکومت نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں نماز کی ادائیگی کو ترجیح دیں۔ تمام ضلع کلکٹرس ، کمشنر پولیس اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو عیدالفطر کے موقع پر قواعد پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ۔