آندھراپردیش کے آبپاشی پراجیکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں تلنگانہ کی درخواست

   

Ferty9 Clinic

چیف جسٹس سوریہ کانت نے مذاکرات کے ذریعہ تنازعہ کی یکسوئی کا مشورہ دیا، 12 جنوری کو آئندہ سماعت مقرر
حیدرآباد ۔5 ۔ جنوری (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے پولاورم ۔نلا ملا ساگر پراجکٹ کے خلاف تلنگانہ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی زیر قیادت بنچ نے تلنگانہ حکومت کے وکیل ابھیشک منو سنگھوی کے دلائل کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ آندھراپردیش پر دریاؤں کے پانی کی تقسیم میں قواعد کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ انہوں نے اس معاملہ پر تفصیلات پیش کرنے کی تلنگانہ کے وکیل کو ہدایت دی۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کا دعویٰ کیا جارہا ہے، لہذا عدالت میں تمام تفصیلات پیش کی جائیں۔ جسٹس سوریہ کانت نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ سیول سوٹ میں مداخلت کا اختیار رکھتا ہے؟ ابھیشک منو سنگھوی نے اس مسئلہ پر وضاحت کیلئے عدالت سے وقت مانگا۔ سنگھوی نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آندھراپردیش حکومت فلڈ واٹر کے استعمال کا دعویٰ کر رہی ہے اور پانی کے الاٹمنٹ کے برخلاف زائد پانی استعمال کرنے کیلئے پراجکٹ تعمیر کیا جارہا ہے۔ آندھراپردیش کی خلاف ورزیوں سے متعلق کئی ثبوت موجود ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا اور نئی ریاست میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کے بعد مرکزی حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت کا موقف ہے کہ اس نے پراجکٹ رپورٹ کی تیاری کیلئے ٹنڈرس طلب کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی پراجکٹس کے معاملہ میں مرکز کو مداخلت کا اختیار ہے اور اگر وہ چاہیں تو مذاکرات کے ذریعہ آبی تنازعہ کی یکسوئی کرسکتا ہے۔ آندھراپردیش کے وکیل مکل روہتگی نے سوال کیا کہ مستقبل کے پراجکٹس سے متعلق رپورٹ پر تلنگانہ کا اعتراض ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنا گھر تعمیر کرنا ہے ، ایسے میں دوسروں کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ پراجکٹ کی رپورٹ کی تیاری کے معاملہ میں اعتراضات غیر واجبی ہے۔ انہوں نے آندھراپردیش کی جانب سے آبی تقسیم کی خلاف ورزی کی تردید کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پراجکٹ کی تعمیر کی صورت میں اطراف کی ریاستوں کے اعتراضات کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ مکل روہتگی نے کہا کہ پراجکٹس سے کسی بھی ریاست کو کوئی نقصان نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کی جانب سے دریائے گوداوری پر کئی پراجکٹس تعمیر کئے جارہے ہیں لیکن آندھراپردیش نے کوئی اعتراض نہیں جتایا۔ آندھراپردیش حکومت کے ایک اور وکیل جگدیش گپتا نے بھی پراجکٹ رپورٹ کی تیاری پر تلنگانہ کے اعتراضات کو غیر واجبی قرار دیا ۔ فریقین کی سماعت کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے 12 جنوری کو آئندہ سماعت مقرر کی اور کہا کہ فریقین کے اعتراضات کی مزید سماعت کی جائے گی۔1