پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کا انکشاف، ایس بی آئی سے 15000 کروڑ کا حصول، جگن حکومت اپوزیشن کے نشانہ پر
حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش نے بینکوں سے بھاری قرض حاصل کیا ہے جس کے تحت ریاست کے مجموعی قرض میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ مرکز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جگن موہن ریڈی حکومت نے 10 مختلف بینکوں سے بھاری قرض حاصل کیا ہے۔ یکم اپریل 2019 سے کارپوریشن اور کمپنی کے نام 56076 کروڑ قرض حاصل کیا گیا۔ راجیہ سبھا میں تلگودیشم کے رکن کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مرکز نے یہ فہرست جاری کی۔ مرکز کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ آندھرا پردیش قرض کے معاملہ میں کافی آگے بڑھ چکا ہے۔ مختلف بینکوں سے حاصل کردہ قرض میں ایس بی آئی سے 15000 کروڑ کا قرض دیگر بینکوں کے مقابلہ سرفہرست ہے۔ بینک آف بڑودہ سے 9450 کروڑ، بینک آف انڈیا 7075 کروڑ، بینک آف مہاراشٹرا 2800 کروڑ، کنارا بینک 2307 کروڑ، انڈین بینک 4300 کروڑ، انڈین اوورسیز بینک 1750 کروڑ، پنجاب نیشنل بینک 5797 کروڑ، پنجاب اینڈ سندھ بینک 750 کروڑ، اسٹیٹ بینک آف انڈیا 15047 کروڑ اور یونین بینک آف انڈیا سے 6800 کروڑ قرض حاصل کیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ بھاری قرض کے حصول کے ذریعہ ریاست کو مالی بحران میں مبتلاء کردیا گیا۔ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور وظیفہ یابوں کے پنشن کی بروقت ادائیگی کے موقف میں نہیں ہے۔ مرکزکی تازہ قرض کی فہرست جگن موہن ریڈی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے۔