آندھرا پردیش ریاست میں وقف اراضیات کے تحفظ میں ناکامی

   

تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کے مہر بند رہنے سے مشکلات
حیدرآباد۔20اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں ریاستی وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہربند رکھے جانے کے سبب پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں وقف بورڈ اراضیات کے تحفظ میں ناکام ہورہا ہے اور عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات میں ناکامی کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔ تقسیم ریاست کے بعد وقف بورڈ کے ریکارڈ س کی تقسیم کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے اچانک ریاستی وقف بورڈ کے ریکارڈس کو اپنے قبضہ میں لینے اور اسے مہربند کرنے کے فیصلہ کے بعد سے حکومت آندھراپردیش اور آندھرا پردیش ریاستی وقف بورڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے بعد سے اب تک کئی مرتبہ چیف ایگزیکیٹیو آفیسر آندھرا پردیش ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے توجہ دلائی جاچکی ہے اور آندھراپردیش کے ریکارڈس فوری فراہم کرنے کی درخواست کی جاچکی ہے لیکن اس مسئلہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا جا رہاہے جو کہ آندھراپردیش میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہا ہے۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ریاست میں موجود اوقافی جائیدادوں کے سروے کے لئے احکام جاری کئے ہیں اور ان کی نشاندہی اور ان کے ریکارڈ درست کرنے کے احکام جاری کئے ہوئے 2ماہ سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس کے باوجود ریاست آندھراپردیش میں اس کام کا آغاز نہیں ہوپایا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تقسیم ریاست کے 7سال گذرنے کے باوجود آندھراپردیش کی اوقافی اراضیات کے ریکارڈس کی عدم فراہمی کے سبب یہ مشکلات پیش آرہی ہیں۔ آندھراپردیش وقف بورڈ کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے وقف بورڈ کے ریکارڈس سیکشن کو مہربند کرنے کے بعد اس سیکشن میں اب تک وقف بورڈ یا اقلیتی بہبود کے کسی بھی ملازم کو داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی ہے جبکہ محکمہ مال کے عہدیداروں کو ہی اس سیکشن میں داخلہ کا اختیار حاصل ہے۔ آندھراپردیش ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے اپنی جائیدادوں کے دستاویزات اور ریکارڈس کے حصول کے لئے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر تلنگاہن وقف بورڈ اور سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر جلد سے جلد غور کریں تاکہ آندھرا پردیش میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے علاوہ ازیں سنٹرل وقف کونسل سے بھی ریکارڈس وصول نہ ہونے کے مسئلہ کو رجوع کیا گیا ہے۔م