آندھرا پردیش میں بی جے پی مذہب کے نام پر سیاست کررہی ہے

   

گنیش تہوار گھر میں منانے کی ہدایت کے خلاف کلکٹریٹس پر احتجاج کا الزام
حیدرآباد۔7 ستمبر(سیاست نیوز) بی جے پی کی مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاست کی قیمت عوام کو اپنی صحت سے چکانے پڑے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی آندھرا پردیش میں گنیش چتورتھی کے نام پر سیاست کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بی جے پی جانب سے کی جانے والی یہ اوچھی مذہبی سیاست ریاست کے عوام کی صحت خطرہ میں پڑسکتی ہے۔ریاستی وزیر مسٹر ی سرینواس راؤ نے بی جے پی قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست کے ضلع کلکٹریٹس پر دھرنے منظم کرتے ہوئے عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے گنیش چتورتھی نہ منانے کیلئے نہیں کہا گیا ہے بلکہ گھر میں گنیش چتورتھی کا انعقاد کرنے کی خواہش کی گئی ہے اور عوام مقامات پر گنیش منڈپوں پر عائد کئے گئے امتناع کے سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کی سفارشات کی بنیاد پر یہ رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں۔ریاستی وزیر آندھراپردیش نے بتایا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر ایس ویراراجو ریاست کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور مذہبی اشتعال انگیزی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔مسٹر ایس سرینواس راؤ نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں جاری کردہ ہدایات میں س بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی ریاستی حکومت کے احکامات اور احتیاطی امور کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے اور ریاستی صدر بی جے پی ان احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے لگے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ بی جے پی کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے عوام کو غلط باور کروا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں وہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات کے مطابق ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی مذہبی منافرت پھیلاتے ہوئے ریاست میں عوام کی صحت سے کھلواڑ کی مرتکب بننے لگی ہے ۔ انہو ںنے بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ صحت عامہ کے اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام کے لئے خطرات میں اضافہ نہ کریں کیونکہ اگر وہ اشتعال انگیزی کرتے ہیں تو ریاستی حکومت خاموش تماشائی نہیں رہے گی اور سخت کاروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔M