آندھرا پردیش میں قانون ساز کونسل کی تحلیل کا فیصلہ واپس

   

اسمبلی میں قرارداد منظور، کونسل میں اکثریت کے حصول کے بعد جگن کا فیصلہ

حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی جگن موہن ریڈی حکومت نے24 گھنٹے میں دوسری مرتبہ ’ یو ٹرن ‘ لیتے ہوئے ایک اور اہم فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ آندھرا پردیش قانون ساز کونسل کی برخواستگی سے متعلق اسمبلی میں سابق میں منظورہ قرارداد سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔ وزیر اُمور مقننہ ڈی راجندر ناتھ ریڈی نے اسمبلی کو بتایا کہ دستور کی دفعہ 168 کے تحت 1958 میں قانون ساز کونسل تشکیل دی گئی تھی۔ تلگودیشم دور حکومت میں قانون ساز کونسل کو تحلیل کردیا گیا تھا بعد میں 2006 میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے کونسل کا احیا عمل میں لایا۔ ریاست کی تقسیم اور دو علحدہ ریاستوں کے قیام کے بعد 27 جنوری 2020 کو جگن موہن ریڈی حکومت نے اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کی تحلیل کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ قرارداد منظوری کیلئے مرکز کو روانہ کی گئی لیکن آج تک مرکزی حکومت نے منظوری نہیں دی جس کے نتیجہ میں کونسل کے ارکان میں الجھن پیدا ہوگئی۔ مختلف گوشوں سے کونسل کی برقراری کی مانگ کی جانے لگی تاکہ برسراقتدار پارٹی قائدین کو کونسل میں نمائندگی دی جاسکے۔ تلگودیشم پارٹی سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد جگن موہن ریڈی حکومت کو کونسل میں سرکاری بلز کی منظوری میں دشواریوں کا سامنا تھا کیونکہ ارکان کی اکثریت تلگودیشم کی تھی۔ حکومت کے کام کاج میں کونسل میں رکاوٹ کو دیکھتے ہوئے جگن موہن ریڈی حکومت نے کونسل کی برخواستگی کا فیصلہ کیا تھا۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں کونسل میں برسراقتدار پارٹی کو اکثریت حاصل ہوچکی ہے اور کونسل کے صدرنشین کے عہدہ پر وائی ایس آر کانگریس کے قائد فائز ہوگئے لہذا پارٹی قائدین نے کونسل کی برقراری کے حق میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کونسل میں اکثریت اور اپوزیشن ارکان کی کمی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اُمور مقننہ کی جانب سے کونسل کی تحلیل سے متعلق سابقہ قرارداد سے دستبرداری کیلئے جو قرارداد پیش کی گئی اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ ر