آندھرا پردیش میں مالیاتی سال 2026-27 کیلئے 3.32 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش

   

اقلیتی بہبود کیلئے 6090 کروڑ مختص، فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کو ترجیح

حیدرآباد۔ 15 فروری (سیاست نیوز) آندھرا پردیش حکومت نے مالیاتی سال 2026-27 کے لئے 3,32,205 کروڑ بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ وزیر فینانس پی کیشو نے بجٹ پیش کیا جس کے تحت فلاحی اسکیمات کے لئے ترجیحی بنیادوں پر فنڈس مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ میں ریونیو اخراجات 2,56,143 کروڑ ہیں جبکہ کیپٹل اخراجات کا تخمینہ 53,915 کروڑ کیا گیا ہے۔ مالیاتی خسارہ 22,002 کروڑ ہے جبکہ فیسکل ڈیفیسٹ تقریباً 75,868 کروڑ رہے گا۔ چندرا بابو نائیڈو حکومت نے بجٹ میں فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کو ترجیح دی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیت اور خواتین کی بھلائی کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔ بی سی طبقات کی بھلائی کے لئے بجٹ میں 51,012 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ ایس سی ڈیولپمنٹ کے لئے 20,644 کروڑ ایس ٹی ڈیولپمنٹ 9190 کروڑ اور اقلیتی بہبود کے لئے 6090 کروڑ مختص کئے گئے۔ بہبودی خواتین و اطفال، معذورین و سینئر سٹیزنس کے لئے 4582 کروڑ مختص کئے گئے۔ دارالحکومت امراوتی کی ترقی کے لئے 6000 کروڑ ترقی کے لئے مختص کئے گئے۔ اسمبلی میں بجٹ تقریب میں بتایا گیا کہ ریاست کا مجموعی قرض 7.11 لاکھ کروڑ ہوچکا ہے جو گزشتہ سال 6.35 لاکھ کروڑ تھا۔ حکومت نے حالیہ عرصہ میں جن نئی اسکیمات کا آغاز کیا ہے ان کے لئے بجٹ مختص کیا گیا۔ اسکولی تعلیم کے لئے 32,308 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے جبکہ صحت اور خاندانی بہبود کے لئے 19,306 کروڑ مختص کئے گئے۔ محکمہ پنچایت راج کے لئے 23,000 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بلدی نظم و نسق کے لئے 14,539 ، زراعت 11,745 کروڑ اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی بھلائی کے لئے 10,700 کروڑ مختص کئے گئے۔ این ٹی آر بھروسہ اسکیم کے لئے 37,719 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی جس کے تحت مستحق افراد کو ماہانہ 4000 روپے پنشن دیا جائے گا۔ دیپم اسکیم کے لئے 2601 کروڑ مختص کئے گئے۔ مستحق خاندانوں کو سالانہ 3 پکوان گیس سلینڈر کی فراہمی دیپم اسکیم کے تحت عمل میں آئے گی۔ استری شکتی کے تحت خواتین کو آر ٹی سی میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی جس کے لئے بجٹ میں 1420 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ 1