پُرامن فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش، ڈائرکٹر جنرل پولیس گوتم سوانگ کا دعویٰ
حیدرآباد۔ آندھرا پردیش میں مندروں پر حملوں کے واقعات کی تحقیقات میں شدت پیدا کرتے ہوئے پولیس نے بی جے پی اور تلگودیشم کارکنوں کو حملوں کیلئے ذمہ دار قرار دیا ہے۔ دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کو حراست میں لیا گیا جو آندھرا پردیش کے مختلف علاقوں میں مندروں پر حملہ اور مورتیوں کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار پائے گئے۔ حکومت نے تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں کئی اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے 9 مختلف معاملات میں 21 ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے جو راست پر ملوث ہیں ان میں سے 17 کا تعلق تلگودیشم اور4 کا بی جے پی سے ہے۔ 6 ملزمین مفرور بتائے گئے ہیں۔ حکومت کا الزام ہے کہ ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال کو بگاڑنے کیلئے اپوزیشن نے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی سازش تیار کی ہے۔ اسی دوران ڈائرکٹر جنرل پولیس گوتم سوانگ نے کہا کہ مفادات حاصلہ جن کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے ریاست میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مزید خاطیوں کا پتہ چلانے کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کریں۔ انہوں نے معلومات کی فراہمی کیلئے موبائیل نمبر بھی جاری کیا۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے کیڈر کو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے باز رکھیں ورنہ پولیس ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ دوسری طرف تلگودیشم اور بی جے پی نے پولیس اور حکومت کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ان کے کارکنوں کو گرفتار کرتے ہوئے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔ دونوں پارٹیوں نے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس جو تحقیقات کی راست نگرانی کررہے ہیں پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر واقعہ کی گہرائی تک پہنچیں تاکہ حقیقی خاطیوں کا پتہ چلایا جاسکے۔