اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی ترقی اولین ترجیح، سرکاری اسکولوں کی حالت بدل دی جائیگی۔ یوم آزادی تقریب سے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔ /15 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ریاست میں بہت جلد 2 لاکھ 66 ہزار جائیدادوں پر تقررات اور سرکاری اسکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وائی ایس جگن موہن ریڈی نے پہلی مرتبہ یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی انجام دی۔ وجئے واڑہ کے اندرا گاندھی میونسپل اسٹیڈیم میں یوم آزادی تقریب تزک و احتشام سے منائی گئی۔ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے قومی پرچم لہرایا اور پریڈ کی سلامی لی۔ مختلف محکمہ جات کی جانب سے خوبصورت جھانکیاں پیش کی گئی تھیں جو عوام کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ جگن موہن ریڈی نے مختلف عہدیداروں کو نمایاں خدمات پر اعزازات سے نوازا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ہمارا مستقبل ہم خود تبدیل کرسکتے ہیں۔ آزادی کے حصول کیلئے کس قدر جدوجہد کی گئی اس کا اندازہ جدوجہد آزادی سے ہوتا ہے۔ امن اور عدم تشدد کو ہتھیار بناکر مجاہدین آزادی نے ملک کی آزادی کیلئے قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ دستور نے عوام کو جو حقوق دیئے ہیں ان کا احترام کرتی ہے۔ دستور کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکرکو خراج پیش کرتے ہوئے وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ عوام کی ضرورتوں کے عین مطابق اسے تیار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے عوام کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے حکومت نے نوارتنالو کی منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی تاریخ کو نئی جہت دینے کیلئے سماجی انصاف کے قوانین تیار کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے پاک سماج اور نظم و نسق کی تیاری کیلئے وہ اقدامات کررہے ہیں۔ مواضعات کو ترقی سے مزین کیا جائے گا اور ان کی حالت میں تبدیلی کی جائے گی۔ کسانوں اور غریبوں کو مفت برقی کی سربراہی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں میں 75 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو بہر صورت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ صنعتوں کے قیام کیلئے درخواست کے موقع پر کمپنیوں سے اس بات کا اقرار حاصل کیا جارہا ہے کہ مقامی افراد کو تربیت دیتے ہوئے انہیں روزگار فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کیلئے پسماندہ اور کمزور طبقات کے علاوہ خواتین کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش ملک کی وہ پہلی ریاست ہے جس نے بی سی کمیشن قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ بی سی طبقات کا مطلب ہندوستانی تہذیب اور شہریت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہے لہذا اُن کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی کو نامزد عہدوں پر 50 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے قانون سازی کی گئی۔ بی سی ، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں کو نامنشین پر الاٹ کئے جانے والے کاموں میں 50 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے قانون سازی کی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اراضیات کے مالکانہ حقوق کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر قولدار کسانوں کے مفادات کا بہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ کسانوں کو مفت فصل بیمہ فراہم کیا جارہا ہے۔ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ کارپوریٹ اداروں پر کنٹرول کیلئے اسکول ایجوکیشن کے ذریعہ اصلاحات پر عمل کیا جارہا ہے۔ غریب اور متوسط خاندانوں کیلئے ہماری حکومت ہمیشہ کھڑی ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروغ انسانی وسائل میں ہم کس مقام پر ہیں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ زراعت، صنعت اور خدمت جیسے شعبوں میں ترقی کا حکومت جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظم و نسق میں درمیانی افراد کے رول اور کرپشن کو ختم کرنے کیلئے سخت اقدامات کئے جارہے ہیں۔ حکومت کی اسکیمات میں درمیانی افراد کی مداخلت سے عوام اسکیمات کے فوائد سے محروم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش میں ٹنڈرس کو شفاف بنانے کیلئے غیر معمولی قدم اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ جگن نے ریمارک کیا کہ اگر گاؤں خوشحال رہتے ہیں تو اس سے ریاست خوشحال رہے گی۔ گاؤں میں مقامی سطح پر گرام پنچایت، سکریٹریٹ قائم کیا جارہا ہے جبکہ شہری علاقوں میں وارڈز کی سطح پر سکریٹریٹ قائم ہوگا۔ دیہی اور شہری علاقوں میں ہر 50 مکانات کیلئے ایک والینٹر کا تقرر کیا گیا ہے۔ والینٹرس کی اسکیم کا آج آغاز عمل میں آرہا ہے بہت جلد مزید 2 لاکھ 66 ہزار روزگار فراہم کئے جائیں گے۔ جگن نے کہا کہ آبپاشی اور دیگر پراجکٹس کو جنگی خطوط پر مکمل کیا جائے گا تاکہ قرض کا شکار کسانوں کو راحت پہنچائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین برسوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت تبدیل کردی جائے گی۔ اسکولوں میں طلبہ کو کتابیں، یونیفارم اور دیگر اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔ کے جی تا پی جی ہر سطح پر غریب خاندانوں کیلئے حکومت ہر طرح سے مدد کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غریبوں کیلئے موجودہ ایک ہزار روپئے پنشن کو بڑھا کر 2250 کیا گیا ہے۔ پنشن کی اہلیت کی عمر کو 65 سے گھٹا کر 60 کردیا گیا ہے تاکہ زیادہ غریبوں کو فائدہ ہو۔
