l ریاست کے برقی پراجکٹس میں پیداوار کو یقینی بنانے پر زور
l لاک ڈاؤن کے باعث 2500 کروڑ روپئے کے نقصانات کا تخمینہ
حیدرآباد۔5مئی (سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش کو تاریکی میں ڈوبنے سے بچانے کیلئے مرکزی حکومت کا راحت کاری پیاکیج ناگزیرہے اور آندھرا پردیش کو تاریکی میں ڈوبنے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ریاست کے پاؤر ڈسکامس میں برقی پیداوار کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں ۔ آندھرا پردیش ڈسمبر 2019 کے دوران ڈسکامس کو 29ہزار کروڑ کے بقایاجات ادا شدنی تھا اور اب جبکہ لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے تو اپریل تا جون سہ ماہی کے دوران ریاست آندھراپردیش نے 2500کروڑ کے نئے نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے۔آندھرا پردیش کے برقی اداروں کی جانب سے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے متعلق ذرائع کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ڈسکامس کو مارچ کے اواخر تک ہی 33ہزار 200 کروڑ کی بھاری رقومات ادا شدنی ہیں اور ان رقومات کی عدم ادائیگی کی صورت میں ڈسکامس میں پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی کی جانب سے ریاست میں زرعی مزدوروں اور مچھیروں کے علاوہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کو فراہم کی جانے والی راحت کا جائزہ لیا جائے تویہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت کی جانب سے معلنہ سبسیڈی کے سبب ڈسکامس پر 11ہزار311 کروڑ کا سالانہ بوجھ عائد ہوا ہے۔حکومت کی جانب سے اعلان کی گئی یہ رعایت ایسے وقت کی گئی جبکہ ریاست کے ڈسکامس کو 29ہزار کروڑ کے قرضہ جات کا سامنا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کی گئی منصوبہ بندی کے مطابق سال 2020 کے دوران نئی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعہ ریاستی حکومت کی جانب سے ڈسکامس کی ادئیگیوں کو یقینی بنانے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی لیکن لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس نے ریاست آندھراپردیش کو تاریکی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔حکومت کی جانب سے اگر سبسیڈی کے بقایاجاتا کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بھی ڈسکامس کو 19ہزار 965 کروڑ کے بقایاجات کا سامنا رہے گا جس کی ادائیگی کی کوئی راہ نظر نہیں آرہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں مرکزی حکومت سے مدد طلب کی جائے گی تاکہ ریاستی حکومت کو ڈسکامس کو کارکرد رکھنے اور برقی پیداوار کو یقینی بناتے ہوئے ریاست کو تاریکی میں ڈوبنے سے بچایا جاسکے۔ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت اور محکمہ برقی کی جانب سے ریاست آندھراپردیش کے صنعتکاروں سے کی گئی اپیل اور لاک ڈاؤن کے سبب پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کیلئے برقی بقایاجاتا کی ادائیگی کی خواہش پر حکومت کو 188کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں اور اسی طرح حکومت کی جانب سے ڈسکامس کی کارکردگی کو جاری رکھنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
