آندھرا پردیش کو پوتی ریڈی پاڈو سے پانی حاصل کرنے سے روکا جائے

   

غیر قانونی طریقہ سے حق سے زیادہ پانی لیا جا رہا ہے ۔ کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو تلنگانہ کا مکتوب

حیدرآباد۔ 7 اگسٹ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ نے کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ سے درخواست کی ہے کہ آندھرا پردیش کو پوتی ریڈی پاڈو ہیڈ ریگولیٹر سے پانی حاصل کرنے سے روکا جائے تاکہ ناگرجناساگر میں طئے شدہ استعمال متاثر نہ ہونے پائے ۔ بورڈ کے صدر نشین ایم پی سنگھ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اسپیشل چیف سکریٹری آبپاشی ڈاکٹر رجت کمار نے پوتی ریڈی پاڈو ہیڈ ریگولیٹر کے ذریعہ آندھرا پردیش کی جانب سے غیر منظورہ آیاکٹ کیلئے پانی کے حصول پر شدید اعتراض جتایا ہے ۔ یہ استعمال کرشنا طاس کے باہر کیا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹر رجت کمار نے کہا کہ بین ریاستی معاہدہ 1976/77 کے مطابق اور 1981 میں منصوبہ بندی کمیشن کی منظوری کے مطابق آندھرا پردیش کو صرف چینائی واٹر سپلائی اسکیم کیلئے 15 ٹی ایم سی اور ایس آر بی سی کیلئے صرف 19 ٹی ایم سی پانی پوتی ریڈی پاڈو سے جولائی تا اکٹوبر حاصل کرنے کا حق ہے ۔ تاہم آندھرا پردیش کی جانب سے طئے شدہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل اضافی پانی حاصل کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ گذشتہ دو سال کے اندر ہی 179 ٹی ایم سی اور 129 ٹی ایم سی پانی حاصل کرلیا گیا ہے ۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ کی اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش نے 7 اگسٹ 2021 تک تقریبا 25 ٹی ایم سی پانی حاصل کرلیا ہے جبکہ اسے صرف 10.48 ٹی ایم سی پانی ہی حاصل کرنا چاہئے تھا ۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی طور پر پانی کے حصول کیلئے آندھرا پردیش نے کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ سے خواہش کی ہے کہ تلنگانہ کو سری سیلم میں ہائیڈل برقی پیداوار سے روکا جائے ۔ سری سیلم ایک ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ ہے جس کے ذریعہ ہائیڈل برقی تیار کی جاتی ہے جب پانی ناگرجناساگر کیلئے چھوڑا جاتا ہے ۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اپنے پہاڑی اور میدانی علاقوں کی وجہ سے تلنگانہ میں زراعت کا زیادہ تر انحصار 30 تا 35 لاکھ بورویلس پر ہے اور اس دریا کے دروازے کھولتے ہوئے مختلف ذخائر آب میں پانی پہونچایا جاتا ہے ۔ چونکہ اب خریف کا سیزن پوری تیزی کے ساتھ جاری ہے ایسے میں تلنگانہ کیلئے ضروری ہے کہ مکمل صلاحیت تک ہائیڈل برقی پیدا کی جائے ۔ سری سیلم میں برقی پیداوار کے عمل میں پانی ناگرجنا ساگر ذخیرہ آب کو چھوڑا جاتا ہے جو 405 ٹی ایم سی پانی کی گنجائش کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے تاکہ آبپاشی ضروریات کی تکمیل ہوسکے ۔ اس کے علاوہ اس پانی سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی صنعتی اور پینے کے پانی کی ضروریات کی تکمیل وہتی ہے ۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ بچاوت ایوارڈ کے مطابق 280 ٹی ایم سی پانی کو سری سیلم سے ناگرجنا ساگر میں چھوڑا جانا چاہئے تاکہ دونوں ریاستوں کی اہم ضروریات کی تکمیل ہوسکے ۔ اس کے علاوہ 16.5 ٹی ایم سی ناگرجنا ساگر سے حیدرآباد کے پینے کے پانی کی ضروریات کیلئے حاصل کیا جاتا ہے ۔