آندھرا پردیش کے اسکولس میں سیل فون کے استعمال پر پابندی

   

طلبہ کو فون لانے کی اجازت نہیں ، ٹیچرس بھی فون ہیڈ ماسٹر کے پاس جمع کرادیں ، احکامات جاری
حیدرآباد 29 اگست : ( سیاست نیوز ) : آندھرا پردیش حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اسکول اوقات میں کلاس روم میں سیل فون کے استعمال پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ طلبہ کو اسکولس میں فون لانے پر جہاں پابندی عائد کردی ہے وہیں ٹیچرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولس پہونچتے ہی اپنے سیل فون بند کردیں اور ہیڈ ماسٹر کے پاس جمع کرادیں ۔ محکمہ تعلیم نے احکامات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یونیسکو کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ٹیچرس کو تدریسی اوقات میں نجی مقاصد کی تکمیل کیلئے فون استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ٹیچرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکول پہونچتے ہی فون کو سائلنٹ موڈ میں کرلیں ۔ انتظامی امور کے لیے فون کی ضرورت پڑتی ہے تو تدریسی وقت صبح 9-30 بجے سے پہلے یا شام 4 بجے کے بعد کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ اسکولس شروع ہونے کے بعد سیل فون پر انتظامی امور کے کام انجام دینے کی صرف ہیڈ ماسٹرس کو اجازت رہے گی ۔ اگر ٹیچرس کو کلاس روم میں طلبہ کو پڑھانے سیل فون کی ضرورت ہے تو ٹیچرس پہلے ہی ہیڈ ماسٹر سے اجازت طلب کرلیں اور ٹیچرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر تعلیمی یا غیر تعلیمی سرگرمیوں کیلئے فون ساتھ رکھنا ضروری ہو تو پرنسپل سے اجازت لی جائے اور وجوہات رجسٹر میں درج کی جائیں ۔ اگر ان قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تو ٹیچر سے فون چھین کر دفتر میں رکھا جائے گا اگر دوسری مرتبہ بھی یہی غلطی کی جاتی ہے تو فون لینے کیلئے ایم ای او سے اجازت لی جائے تیسری مرتبہ غلطی دہرانے والے ٹیچر کو ڈی ای او سے رجوع ہو کر وضاحت کرنی پڑے گی ۔۔ ن