آندھرا پردیش کے راشن کارڈ گیرندوں کو تلنگانہ میں اناج

   

بین ریاستی کلسٹرس کا آغاز ، نئی اسکیم پر یکم اگست سے عمل آوری
حیدرآباد۔26جولائی (سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش کے راشن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کو اب تلنگانہ میں بھی کسی بھی ارزاں فروشی کی دکان سے راشن حاصل کرنے کی سہولت میسرآئے گی۔مرکزی حکومت کی جانب سے تجرباتی اساس پر یکم اگسٹ سے شروع کئے جانے والے اس پراجکٹ کے سلسلہ میں 4ریاستوں پر مشتمل دو کلسٹر شروع کئے جا رہے ہیں جن میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش اور گجرات اور مہاراشٹرا شامل ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست تلنگانہ میں ریاست گیر سطح پر کسی بھی راشن کی دکان سے راشن کے حصول کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کو نظر میںرکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے اس قومی سطح کے پراجکٹ کے طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ روزگارکے سلسلہ میں اپنے آبائی مقام سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو وہ جہاں قیام پذیر ہیں اس علاقہ میں راشن حاصل ہوسکے ۔اس سہولت سے وہ راشن کارڈ گیرندے استفادہ کرسکتے ہیں جن کے راشن کارڈ آدھار کارڈ سے مربوط ہیں اور انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے غذائی ضمانت حاصل ہے۔مسٹر اکون سبھروال کمشنر تلنگانہ سیول سپلائز نے بتایا کہ ریاست میں تجربہ کامیاب ہونے کے بعد مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے جس کے تحت آج آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے دو راشن کارڈ گیرندوں کو پنجہ گٹہ میں واقع راشن کی دکان سے راشن دیا گیا اور اس تجربہ کو کامیاب بنانے کی ممکنہ کوشش کی جائے گی۔مسٹر اکون سبھروال نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں کسی بھی راشن کی دکان سے راشن کی خریدی کی گنجائش فراہم کئے جانے کے بعد سب سے زیادہ استفادہ کنندگان شہر حیدرآباد میں ریکارڈ کئے گئے جہاں 42 لاکھ افراد نے راشن حاصل کیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست کے کئی مقامات سے لوگ حیدرآباد منتقل ہوتے ہوئے روزگار حاصل کر رہے ہیں اسی طرح دوسرے نمبر پرمیڑچل ضلع ہے جہاں 29لاکھ دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے تلنگانہ کے شہریوں نے راشن پورٹیبلیٹی اسکیم سے استفادہ کیا ہے ۔اسی طرح تیسرے نمبر پر 18لاکھ نقل مکانی کرتے ہوئے راشن حاصل کرنے والوں کے ساتھ رنگاریڈی تیسرے نمبر ہے۔تلنگانہ میں مختلف ریاستو ں سے تعلق رکھنے کے باوجود جن مقامات پر قیام پذیر ہیں ان مقامات سے راشن حاصل کرنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے نظام آباد 4نمبر پر پہنچ چکا ہے جہاں 10لاکھ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوں نے راشن حاصل کیا ہے اسی طرح 9لاکھ غیر مقامی راشن کارڈ گیرندوں کے ساتھ ضلع ورنگل پانچویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔یکم اگسٹ سے قومی سطح پر شروع کی جانے والی اس اسکیم میں ابتدائی طور پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان ایسا کیا جائے گا اور اسی طرح گجرات اور مہارشٹرا کے راشن کارڈ گیرنے بھی ایک ملک ایک کارڈ اسکیم کا حصہ رہیں گے۔بتایاجاتا ہے کہ تجرباتی اساس پر شرو ع کی جانے والی اس اسکیم کی کامیابی کی صورت میں اسے ملک کی دیگر ریاستوں تک وسعت دینے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اس کی کامیابی کے بعد ہی اس کا قطعی فیصلہ کیا جائیگا۔