یاتریوں کو رقم دینے کے بجائے مسائل پر درخواست دینے کی سہولت، پرساد کی جگہ اسکیمات کے پمفلٹس
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کسی بھی سیاستداں کے حامیوں اور پرستاروں کی جانب سے قائد کو خوش کرنے کیلئے نت نئے انداز اختیار کئے جاتے ہیں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس کے حامیوں نے عقیدت کی حدوں کو پار کرتے ہوئے دونوں کے نام سے مندر تعمیر کردیئے ہیں۔ تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ کے نام سے مندر قائم کرتے ہوئے وہاں ان کی مورتی نصب کردی گئی جس کی باقاعدہ پوجا کی جاتی ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی بی مدھو سدھن ریڈی نے جگن سے اپنی عقیدت کا کچھ یوں اظہار کیا کہ انہوں نے ان کے نام سے ایک عالیشان مندر تعمیر کردی۔ مدھو سدھن ریڈی کا شمار جگن کے کٹر حامیوں میں ہوتا ہے۔ پارٹی کے دیگر ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کئی ایسے ہیں جو آخری حد تک جگن کے پرستار ہیں۔ مدھو سدھن ریڈی نے مندر اور میوزیم تعمیر کیا جس کا نام ’ نوارتنالو نیلائم ‘ رکھا گیا ہے جو کہ چیف منسٹر کی 9 فلاحی اسکیمات سے منسوب ہے۔ آندھرا پردیش میں 9 مختلف اسکیمات کو یکجا کرتے ہوئے جگن موہن ریڈی نے اسے ’ نوارتنالو‘ کا نام دیا ہے۔ مدھو سدھن ریڈی جو 2009 میں سری کلا ہستی اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں انہوں نے مندر کی تعمیر کے اخراجات کا بڑا حصہ اپنے طور پر ادا کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2 کروڑ روپئے مجموعی طور پر خرچ کئے گئے جس میں 50 لاکھ روپئے مقامی وائی ایس آر کانگریس قائدین نے ادا کئے۔ ٹاملناڈو اور کرناٹک سے ماہرین کو مدعو کرتے ہوئے مندر کی خوبصورتی اور نقش و نگار کا کام انجام دیاگیا۔ چیف منسٹر کے فلیگ شپ پروگرام ’ نوارتنالو‘ کے ذریعہ سطح غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کی بھلائی کی اسکیمات کا تعین کیا گیا ہے۔ مدھو سدھن ریڈی کا کہناہے کہ جگن موہن ریڈی ریاست کے 5.65 کروڑ عوام کی زندگی میں خوشحالی لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مندر بہت جلد ایک سیاحتی مرکز میں تبدیل ہوجائے گا۔ مندر کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں آنے والے افراد کو رقم یا پھر قیمتی اشیاء پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ حکومت کو اپنے مسائل کے سلسلہ میں درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔وزیٹرس کو حکومت کی اسکیمات کی تفصیلات پر مشتمل پمفلٹس بطور پرساد دیئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے نارائن سوامی نے مندر کا افتتاح کیا۔R