آن لائن سرگرمیوں میں اضافہ سے ویب کیمروں کی قیمت میں اضافہ

,

   

حیدرآباد : کورونا بحران اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے آن لائن سرگرمیاں بڑھ جانے کے بعد ویب کیمروں کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوگیا ۔ مارکٹ میں
(webcam)
کی قلت کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث تعلیمی سرگرمیاں ، اجلاس ، ویڈیو کانفرنسیں اور شادی بیاہ کے علاوہ دوسری تقاریب آن لائن ہوگئی ہیں ۔ لاک ڈاؤن سے قبل اس کی زیادہ مانگ نہیں تھی لیکن ان تین ماہ کے دوران ویب کام کی مانگ اور فروخت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ عام قسم کا ویب کام پہلے مارکٹ میں 500 تا 800 روپئے میں فروخت ہوتا تھا ۔ تاہم اسٹاک کی کمی اور طلب میں اضافہ کے بعد اس کی قیمت 1500 تا 1700 تک پہونچ چکی ہے ۔ آن لائن میں اس کی قیمت 2 ہزار روپئے سے شروع ہوتی ہے ۔ برانڈیڈ ویب کیمرے 20 ہزار روپئے کی قیمت میں دستیاب ہورہے ہیں ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بازار بند تھے ۔ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے ورک فرم ہوم اور اجلاس بھی آن لائن ہونے کی وجہ سے اس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوگیا ۔ لاک ڈاؤن کے باعث سپلائی بند تھی اور کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ویب کیمرے فروخت کرنے والوں نے جو بھی آرڈرس دئیے تھے وہ وقت پر وصول نہیں ہوئے جو بھی اسٹاک تھا طلب میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ۔ شہر حیدرآباد میں معیاری ویب کام سکندرآباد کے پارک لین ، کمپیوٹر بازار عابڈس اور کوٹھی میں دستیاب ہوتے ہیں ۔ ان مارکٹس کے دوکانداروں نے بتایاکہ پہلے لاک ڈاؤن سے قلت تھی اب ہند ۔ چین کے درمیان کشیدگی کے باعث اس کی قلت پیدا ہوگئی کیوں کہ زیادہ تر الکٹرانک اشیاء چین سے مانگائی جاتی ہے ۔ لاک ڈاؤن کے بعد وزیراعظم نریندر مودی بھی چیف منسٹر کے سی آر کے علاوہ وزراء اور اعلیٰ عہدیدار زیادہ تر ماتحتین کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ تبادلہ خیال کررہے ہیں ۔ اسکولس ، کالجس کی جانب سے آن لائن کلاسیس شروع کی گئی ہیں ۔ کورونا کے قہر سے بچنے کے لیے زیادہ تر لوگ گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ سفر پر پابندیاں عائد کرلی ہے ۔ اپنے دوست احباب اور ارکان خاندان سے بات چیت کرنے کے لیے اسکیا ٹیپ اور زوم جیسے ایپس استعمال کررہے ہیں اس کو ویب کام سے جوڑتے ہوئے خاندان کے تمام ارکان سے ربط بنا رہے ہیں ۔۔