۔104 کروڑ کی منتقلی کا انکشا ف، آر بی آئی عہدیداروں کا پولیس کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد۔ آن لائن دھوکہ دہی میں ملوث چین کی ویب سائیٹس کے معاملہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور حیدرآباد پولیس نے اپنی تحقیقات میں شدت پیدا کردی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق آن لائن دھوکہ دہی کے ریاکٹ میں ابھی تک 104 کروڑ روپئے کی بیرونی کمپنیوں کو منتقلی کا پتہ چلایا گیا ہے۔ تحقیقاتی عہدیداروں کو گذشتہ سال اگسٹ میں گرفتار کئے گئے چین کے شہری سے کی گئی تفتیش کے دوران کئی حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک 1100 کروڑ روپئے گیمرس سے حاصل کئے گئے اور 104 کروڑ بیرونی کمپنیوں کو منتقل کئے جاچکے ہیں۔ غیرقانونی طور پر یہ رقم منتقل کی گئی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے عہدیداروں نے پولیس کے تعاون سے رقومات کی منتقلی کا پتہ چلانے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزمین عوام کو آن لائن گیمس کا پیشکش کرتے ہیں جس کے ذریعہ انہیں باآسانی دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔ تحقیقاتی عہدیدار دھوکہ دہی میں ملوث ای ویالٹ کمپنیوں کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں جو غیرقانونی طور پر چینی ایپس کے ذریعہ سرگرم بتائے گئے ہیں۔ اسی دوران سائبرآباد اور راچہ کنڈہ کے علاوہ حیدرآباد پولیس کے عہدیداروں کے ساتھ ریزرو بینک آف انڈیا کے عہدیداروں نے ملاقات کی اور غیر قانونی قرض کے ایپس کا جائزہ لیا۔ پولیس نے غیر مجاز آن لائن ایپس کو باقاعدہ بنانے اور ان پر نگرانی کیلئے رہنمایانہ خطوط وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔ آن لائن قرض ایپس کی ہراسانی کے نتیجہ میں اب تک 6 افراد نے خودکشی کرلی ہے۔ پولیس نے غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ عوام کو آن لائن قرض ایپس سے چوکس رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔