آن لائن نیوز کو کنٹرول کرنے کی تیاری،براڈ کاسٹنگ سرویس ریگولیشن بل کا مسودہ تیار

   

حیدرآباد۔ 27 جولائی (سیاست نیوز) مرکزی حکومت آن لائن خبروں کو کنٹرول کرنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ ہر قسم کی آن لائن خبروں سے متعلق مواد، ویڈیوز، ویب سائیٹس اور سوشیل میڈیا کمینٹری کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔ اس سلسلہ میں براڈکاسٹگ سرویسیس (ریگولیشن) بل 2024ء کے عنوان سے ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا انفلونسرس ’’ڈیجیٹل نیوز براڈکاسٹرس‘‘ کے نام سے نیا زمرہ متعارف کرایا گیا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ تمام براڈ کاسٹنگ کے قواعد کو ایک قانون کے تحت لانے کیلئے مرکزی حکومت تیاری کررہی ہے۔ اس حصے کے طور پر براڈ کاسٹنگ سرویسس (ریگولیشن) بل 2024ء کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس ایکٹ۔ 1995ء کی جگہ لے لیگا۔ اسی مناسبت سے سوشیل میڈیا پر باقاعدہ ویڈیوز جو لوگ اپ لوڈ کرتے ہیں، پوڈ کاسٹ کرنے والوں، جو کرنٹ افیئرس کا مواد آن لائن تحریر کرتے ہیں۔ وہ اب ’’ڈیجیٹل نیوز براڈ کاسٹرس‘‘ کے تحت آئیں گے۔ یہ انکشاف قومی میڈیا ادارہ ہندوستان ٹائمز نے کیا ہے۔ میڈیا یا رجسٹرڈ ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق نہ رہنے والے آن لائن نیوز مواد تخلیق کاروں کے اسٹرمینگ پلیٹ فارمس (او ٹی ٹی براڈ کامیٹنگ سرویس) پر عائد کردہ ضوابط اور ذمہ داریاں لاگو ہوتی ہیں؟ جن پر ابتداء سے ہی تشویش ہے۔ تاہم ان سب کو ڈیجیٹل نیوز براڈ کاسٹنگ کے نئے زمرے میں شامل کرتے ہوئے تازہ ترین بل میں وضاحت کی گئی ہے۔ بل کا پہلا مسودہ رائے عامہ کیلئے گذشتہ سال نومبر میں جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد براڈ کاسٹنگ سرویس ریگولیشن بل 2024ء کا دوسرا مسودہ حال ہی میں کئی تبدیلیوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ یہ بل مرکزی کابینہ میں منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پہنچے گا۔ اسٹریمنگ سرویس، ڈیجیٹل نیوز براڈ کاسٹرس سے متعلق انٹرمیڈرس، سوشیل میڈیا اداروں کو نئے ضوابط اخلاق میں شامل کیا جائے گا۔ سوشیل میڈیا میں ریگولر مواد اپ لوڈ کرنے والوں، کثرت سے ٹیوٹ کرنے والے صحافیوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔ تاہم انٹرنیٹ براڈ کاسٹنگ سرویس سے او ٹی براڈ کاسٹنگ سرویس کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔2