تین بردہ فروش گرفتار، اینٹی ہیومن ٹرائفکینگ راچہ کنڈہ کی کارروائی
حیدرآباد۔ اینٹی ہیومن ٹرائفکینگ یونٹ راچہ کنڈہ نے آن لائن جسم فروشی کے ایک بین ریاستی ریاکٹ کو بے نقاب کردیا اور تین بردہ فروشوں کو گرفتار کرلیا جبکہ اصل سرغنہ مفرور بتایا گیا ہے۔ اینٹی ہیومن ٹرائفکینگ یونٹ نے بالا پور پولیس کے ہمراہ دو علحدہ کارروائیوں میں بردہ فروشوں کا پردہ فاش کیا۔ ڈیٹنگ ویب سائیٹ لوکانٹو کے ذریعہ جسم فروشی کا کاروبار کیا جارہا تھا۔ نوجوان لڑکیوں اور خواتین کی پُرکشش نیم عریاں تصاویر کو ویب سائیٹ پر پیش کرتے ہوئے یہ بردہ فروش اپنے فون نمبرات درج کررہے تھے اور گراہکوں کو ان کی مرضی کے مقام پر سرویس فراہم کررہے تھے۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھی ان کی یہ سرگرمیاں جاری تھیں۔ اطلاع کے بعد پولیس نے منصوبہ بنایا اور اپنے ایک کانسٹبل کو گراہک بناکر اس سے رابطہ قائم کیا۔ ان بردہ فروشوں نے الگ الگ قیمتیں مقرر کررکھی تھیں۔ کانسٹبل نے جب ان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے 3 ہزار تا 15 ہزار روپئے فی لڑکی کی قیمت بتائی اور تین لڑکیوں کی دستیابی کا ذکر کیا۔ اس کانسٹبل نے جو گراہک کی شکل میں ان سے رابطہ میں تھا تین لڑکیوں کی قیمت 45 ہزار روپئے ایک رات مقرر کی اور سودا طئے ہونے کے بعد انہوں نے فون پر لوکیشن شیئر کیا۔ جیسے ہی یہ بردہ فروش ان لڑکیوں کو لیکر بتائے گئے پتہ پر پہنچے اینٹی ہیومن ٹرائفکینگ یونٹ اور بالا پور کی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا اور ان لڑکیوں کو بردہ فروشوں کے چنگل سے آزاد کروایا۔ پولیس نے کارروائی میں 28 سالہ دنیش عرف نانی، 30 سالہ آر ناگیشور راؤ اور 31 سالہ مہیش گوڑ کو گرفتار کرلیا جو یوسف گوڑہ ، رحمت نگر اور کارمیکا نگر علاقہ کے ساکنان بتائے گئے ہیں جبکہ اصل سرغنہ شیوا عرف بی سرینواس مفرور بتایا گیا ہے جو خواتین و لڑکیاں فراہم کرتا تھا۔ پولیس نے ایک مغربی بنگال اور دو تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو ان کے چنگل سے آزاد کروالیا۔ دوسرے واقعہ میں انسپکٹر بالا پور بھاسکر کے مطابق ایک لڑکی کو آزاد کروایا گیا جو مغربی بنگال ریاست سے تعلق رکھتی ہے چونکہ اس کیس میں تین بردہ فرشوں کی شناخت ہوچکی ہے جن میں دو خواتین شامل ہیں جو مفرور ہیں۔ انسپکٹر بھاسکر نے بتایا کہ ممتا اور ممیت ساکنان ممبئی اور رامو ساکن حیدرآباد کو بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔