کمسن بچوں کی موت پر چیف جسٹس کی برہمی، حیدرآباد میں 3.79 لاکھ آوارہ کتے: ایڈوکیٹ جنرل
حیدرآباد ۔ 18۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی دہشت اور کمسن بچوں پر حملوں کے واقعات کا تلنگانہ ہائی کورٹ میں سختی سے نوٹ لیا ہے ۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس انیل کمار پر مشتمل بنچ نے شہر کے مسافتی علاقوں جواہر نگر میں کتوں کے کاٹنے سے ایک دیڑھ سالہ بچہ کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے سوال کیا کہ آوارہ کتوں کی دہشت کو روکنے کیلئے کیا قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں بھی اس مسئلہ پر حکومت اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی تھی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے ریاستی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو آوارہ کتوں پر قابو پانے کے لئے تجاویز پیش کرے گی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں آوارہ کتوں کی تعداد تقریباً 3.79 لاکھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں 6 مراکز قائم کئے گئے جہاں کتوں کے نسبندی آپریشن کئے جاتے ہیں ۔ ہر مرکز پر روزانہ تقریباً 200 کتوں کے آپریشن کئے جارہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ صرف آپریشن کے ذریعہ حملوں کے واقعات کو کس طرح روکا جاسکتا ہے ۔ اینمل ویلفیر اسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ کتوںکو شیلٹر ہوم میں منتقل کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ناگپور میں تقریباً 90,000 کتوں کو شیلٹر ہوم میں رکھا گیا ہے ۔ ہائیکورٹ نے اینمل ویلفیر اسوسی ایشن کے ارکان کو ہدایت دی کہ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی سے ملاقات کرتے ہوئے آوارہ کتوں کی دہشت پر قابو پانے کے اقدامات کریں۔ اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی ہائی کورٹ نے ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں شہر اور اضلاع میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے کئی بچوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی بڑے افراد بھی کتوں کے حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ 1