بچوں اور بزرگوں کی جان جانے پر ریاستی حکومتیں معاوضہ دینے کی پابند
نئی دہلی۔ /13جنوری :(ایجنسیز) ملک بھر میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو ایک سنگین عوامی خطرہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی اموات اور زخمیوں کے معاملات میں ریاستی حکومتیں اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتیں۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایسے واقعات میں متاثرہ افراد یا ان کے اہل خانہ کو خاطر خواہ معاوضہ ادا کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ آوارہ کتوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو مسلسل نظرانداز کرنا دراصل شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی کے مترادف ہے۔ بنچ نے کہا کہ انسانی جان کے تحفظ سے کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ریاستی حکومتوں کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہی ہوگا۔ عدالت نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی 9 سالہ بچے کی موت آوارہ کتے کے حملے میں ہو جائے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ بنچ نے واضح کیا کہ ایسے تمام معاملات میں ذمہ داری طے کی جائے گی اور متعلقہ سرکاری افسران کو جواب دہ بنایا جائے گا۔ عدالت کے مطابق یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریوں سے فرار کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔ سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ اروند داتار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پہلے ہی جاری کیے گئے احکامات مکمل طور پر قانونی بنیادوں پر تھے اور کسی نئی ماہر کمیٹی کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اینیمل برتھ کنٹرول قوانین متعدد مرکزی اور ریاستی قوانین سے متصادم ہیں اور جنگلی حیات کے علاقوں میں آوارہ کتوں سے لاحق خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، جس کے نتیجے میں انسانی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے کتوں سے محبت رکھنے والی تنظیموں اور افراد کے کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ تنظیمیں آوارہ کتوں کی مکمل ذمہ داری لینے سے قاصر ہیں تو انہیں عوامی مقامات پر چھوڑنا قابل قبول نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جانوروں سے ہمدردی اپنی جگہ، لیکن انسانوں کی جان کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔