رکن کونسل ایم ایس پربھاکر کے استفسار پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کی وضاحت
حیدرآباد ۔19۔ڈسمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے دائرہ کو وسعت دینے اور آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں موجود 30 بلدیات کو مجلس بلدیہ حیدرآباد میں ضم کرنے کے سلسلہ میں جاری اطلاعات کی آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے دیئے گئے تحریری جواب میں تردید ہوگئی ۔ رکن قانون ساز کونسل مسٹر ایم ایس پربھاکر نے آج کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران اس بات کا استفسار کیا تھا کہ آیا ریاستی حکومت کے پاس ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے جس میں حکومت کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں اطراف کی 30 بلدیات کو شامل کرتے ہوئے شہر حیدرآباد کے دائرہ کو وسعت دینے کا منصوبہ تیار کیاگیا ہے۔انہو ںنے اپنے سوال میں یہ بھی جاننے کی خواہش کی تھی کہ کیا حکومت نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ممبئی کے طرز پر جی ایچ ایم سی کو 4 زون میں منقسم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے! علاوہ ازیں حکومت نے نو تشکیل شدہ بلدیات یا کارپوریشنس کے لئے کوئی خصوصی فنڈس کی تخصیص کے اقدامات کئے ہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے جاری کئے گئے تحریری جواب میں تمام سوالات کا نفی میں جواب دیتے ہوئے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ریاستی حکومت کے پاس ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اطراف کی 7 کارپوریشن اور 30بلدیات کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں ضم کرنے کا کوئی منصوبہ ہے۔صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر جی سکھیندر ریڈی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران مسٹر ایم ایس پربھاکر کے اس سوال کا تحریری جواب ارسال کیا گیا ۔3