آٹھویں جماعت تک مسلمہ اسکول میں بارہویں جماعت کی پڑھائی

   

سہارنپور: 8 اگست (یو این آئی) اتر پردیش کے ضلع سہارنپورکے دیوبند کے بچھیٹی گاؤں میں آٹھویں جماعت تک تسلیم شدہ اسکول میں غیر قانونی طور پر 12ویں جماعت کی کلاسیں چلانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ منیش بنسل نے آج اس سلسلے میں کہا کہ اگر ضلع میں کوئی بھی اسکول بغیر شناخت کے چلتا پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی اور فرضی ادارہ چلانے والوں کو کسی بھی حال میں بخشا نہیں جائے گا۔ ضلع مجسٹریٹ کے مطابق ایس ڈی ایم دیوبند یوگراج سنگھ دیگر عہدیداروں کے ساتھ آج صبح تقریباً 10 بجے اسکول گئے اور دیکھا کہ اسکول بند ہے ۔ گزشتہ ہفتے جب ڈسٹرکٹ ا سکول انسپکٹر معائنہ کے لیے گئے تو بھی اسکول بند پایا گیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس اسکول کو آٹھویں جماعت تک تعلیم کے لیے تسلیم کیا گیا ہے لیکن وہاں نویں سے بارہویں تک کی کلاسیں چلائی جا رہی ہیں۔

غیر منظور شدہ اسکولوں کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت
لکھنؤ ، 8 اگست (یو این آئی) اتر پردیش کے محکمہ بنیادی تعلیم نے تمام ضلعی تعلیمی افسران کو 15 اگست تک بغیر منظوری کے چلنے والے اسکولوں کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ بنیادی تعلیم کے ڈائریکٹر پرتاپ سنگھ بگھیل نے تمام ڈویژنل اسسٹنٹ ایجوکیشن ڈائریکٹر اور بی ایس اے کو اپنے متعلقہ اضلاع میں بغیر منظوری کے چلنے والے تمام اسکولوں کی چھان بین کرنے اور کارروائی کرکے 15 اگست تک تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر ضلع میں کوئی غیر تسلیم شدہ اسکول چل رہا ہے تو اس کے لیے بی ایس اے اور بی ای او ذمہ دار ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یکم جولائی کو جاری ہونے والی ہدایات کے باوجود امبیڈکر نگر، شراوستی، بلرام پور، رائے بریلی، اجودھیا، سیتا پور، چترکوٹ، فیروز آباد، سدھارتھ نگر، کوشامبی، فرخ آباد، مرزا پور، پیلی بھیت، اناؤ، بجنور، سنت کبیر نگر، جھانسی لکھیم پور کھیری، اوریا، مین پوری اور فتح پور کو چھوڑ کر دیگر اضلاع نے رپورٹ نہیں بھیجی ہے ۔ ایسے اضلاع کو ہدایات جاری کرکے جلد معلومات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے ۔