حیدرآباد۔ یکم؍ فروری، ( سیاست نیوز) سائبرآباد پولیس کی جانب سے آپریشن اسمائیل کے تحت کارروائی کرتے ہوئے 829 بچوںکو بچہ مزدوری سے نجات دلائی گئی۔ ماہ جنوری کے دوران سائبرآباد پولیس کی جانب سے 9 خصوصی ٹیموں کو تشکیل دیا گیا تھا جو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ ٹیم کے ساتھ آپریشن کو انجام دے رہے تھے۔ پولیس کی جانب سے کی گئی اس کارروائی میں 149 مقدمات درج کئے گئے۔ بچہ مزدوری سے آزاد کروائے گئے بچے اکثر سمنٹ ، اینٹ کی بھٹی، چوڑی سازی کے کارخانوں اور ٹائیل تیار کرنے والے کارخانوں میں کام کررہے تھے۔ ان میں 245 بچے دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بچہ مزدوری سے آزاد کروائے گئے بچوں میں487 لڑکے اور 87 لڑکیاں شامل ہیں جبکہ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 245 بچوں میں 10 لڑکیاں شامل تھیں۔ یکم جنوری تا 31 جنوری جاری رہے آپریشن اسمائیل میں 38 کے بشمول 20 لڑکیاں بھیک مانگ رہے تھے اور 100 کے بشمول 38 لڑکیاں کچرا چننے کے دوران 650 میں 37 لڑکیاں بچہ مزدوری میں اور ایک لڑکی کے بشمول 2 بچوں کو سڑک پر گھومنے کے دوران حاصل کیا گیا جبکہ ایک بچہ کو غیر مجاز طور پر گود لیا گیا تھا جس کو پولیس نے آزاد کروالیا۔ کُل 800 بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کردیا گیا جبکہ 29 بچوں بشمول تین لڑکیوں کو اسٹیٹ ہوم کو منتقل کردیا گیا ہے۔ دیگر ریاستوں میں بہار کے 52، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے 52، آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے 24، جھار کھنڈ کے 25 ، کرناٹک کے 19، ویسٹ بنگال کے 20 ، اڈیشہ کے 14، چھتیس گڑھ کے 11 ، راجستھان کے 10، مدھیہ پردیش کے 7، مہاراشٹرا کے 4، آسام کے 2 ، ٹاملناڈو کے 2 اور نیپال کے 2 بچے پائے جاتے ہیں۔ع