آپریشن سندور میں ڈی آر ڈی او کے اسلحہ کا اہم رول :راجناتھ

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی، یکم جنوری (یو این آئی) وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے یکم جنوری 2026 کو نئی دہلی میں ڈی آر ڈی او کے صدردفتر کے دورے کے دوران ادارہ کے 68ویں یومِ تاسیس کے موقع پر کہا کہ “آپریشن سندور کے دوران ڈی آر ڈی او کی جانب سے تیار کردہ ہتھیاروں کے نظام نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، جو قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تنظیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا واضح ثبوت ہے ”۔ ڈی آر ڈی او کی جانب سے مسلح افواج کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کرکے ہندستان کی گھریلو اورخودکفالت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی تعریف کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران ڈی آر ڈی او کے آلات نے نہایت مؤثر اور ہم آہنگ انداز میں کام کیا، جس سے فوجیوں کے حوصلے بلند ہوئے ۔ وزیرِ دفاع نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ڈی آر ڈی او، وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے یومِ آزادی 2025 کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے کیے گئے اعلان کے مطابق، سدرشن چکر کی تیاری میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ”اس اقدام کے تحت ڈی آر ڈی او آئندہ دہائی کے دوران ہماری اہم تنصیبات کو مکمل فضائی تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک مؤثر فضائی دفاعی نظام سے لیس کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ آپریشن سندور کے دوران جدید جنگ میں فضائی دفاع کی اہمیت ہم نے خود دیکھی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ڈی آر ڈی او اس ہدف کے حصول کیلئے پوری لگن کے ساتھ کام کرے گا اور جلد اسے حاصل کرے گا۔
راج ناتھ سنگھ نے ڈی آر ڈی او کی تعریف کی کہ اس نے محض ٹیکنالوجی تیار کرنے والا ادارہ ہی نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنے والا ادارہ بھی بن کر دکھایا ہے ، جس کے باعث عوام اس کی طرف امید، یقین اور بھروسے کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ڈی آر ڈی او کے نجی شعبے کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعت، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اَپس کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری کے نتیجے میں ایک ہم آہنگ دفاعی ایکو نظام تشکیل پایا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ”ڈی آر ڈی او نے اپنے نظام، طریقۂ کار اور کام کرنے کے انداز میں مسلسل بہتری لائی ہے ۔ خریداری سے لے کر منصوبہ جاتی نظم و نسق تک، صنعت کے ساتھ روابط سے لے کر اسٹارٹ اَپس اور ایم ایس ایم ایز کے ساتھ تعاون تک، ہر سطح پر کام کو آسان، تیز تر اور زیادہ قابلِ اعتماد بنانے کی واضح کوشش نظر آتی ہے ۔”