آپریشن کگار کے نام پر قبائیلیوں پر ظلم و ستم کو روکنے کا مطالبہ

   

امن مذاکرات اور دانشوروں کی ذمہ داریوں پر گول میز کانفرنس ، سرکردہ شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔16مئی(سیاست نیوز) ۔ امن مذاکرات اور دانشواروں کی ذمہ داریاںکے عنوان پر عثمانیہ یونیورسٹی اسکالرس اور اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ایک گول میز کانفرنس کا یونیورسٹی کے روس مسعود سمینار حال میں منعقد ہوئی ۔پروفیسرہرا گوپال کے علاوہ پروفیسر کودنڈرام رکن قانون ساز کونسل‘ جسٹس چندرا کمار‘ گڈ م لکشمن‘ پروفیسر کاسم‘ پروفیسر انور خان‘ چیرمن ادیویسی کانگریس چیرمن بلیا نائیک کے علاوہ دیگردانشوروں نے خطاب کرتے ہوئے چھتیس گڑھ ‘ جھارکھنڈ‘ اڈیشہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں آپریشن کگار کے نام پر جاری قبائیلوں کے ساتھ مبینہ مظالم کی فی الفور روک تھام کا مطالبہ کیا۔ تاہم مذکورہ قائدین نے مائوسٹوں سے امن مذاکرات کی بھی حکومت ہند سے گوہار لگائی۔ انہوں نے کہاکہ آپریشن کگار کے نام پر قبائیلیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔شرکاء نے مرکزی حکومت پر قبائیلیوں کے حقوق کی پامالی اور قدرتی وسائل جن پر قبائیلیوں کا آئینی حق ہے اُس کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کرنے کا بھی الزام لگایا۔پروفیسرہرا گوپال نے آپریشن کگار پر روک لگانے کی مانگ کے ساتھ اپوزیشن قائدین سے ملاقات کی بھی تفصیلات سے واقف کروایا۔ انہو ںنے کہاکہ اے آئی سی سی صدر اور راجیہ سبھا میںاپوزیشن لیڈر ملکاارجن کھرگے سے اس خصوص میںملاقات اور تحریری نمائندگی کی گئی ہے ۔ پروفیسر ہرا گوپال نے آپریشن کگار کے نام پر قبائیلیوں کے حقوق چھیننے اور انہیں بے گھر کرنے کا بھی مرکزی حکومت کو مورد الزام ٹہرایا۔ شرکاء نے عسکریت پسندی کے نام پر جہاں جہاں ظلم وستم ڈھائے جارہے ہیں ان کی سخت الفاظ میںمذمت کی ۔کانگریس پارٹی کی جانب سے قبائیلیوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے جاری جدوجہد پر بھی شرکاء نے روشنی ڈالی اور کہاکہ حکومت تلنگانہ نے آپریش کگار کو روکنے کے لئے حکومت ہند سے کھل کر نمائندگی کی ہے ۔اس موقع پر انقلابی نعروں کی گونج میںعثمانیہ یونیورسٹی ریسرچ اسکالرس نے آپریشن کگار کو روکنے اور قبائیلیوں میں اعتماد کی بحالی اور ان کے آئینی حقوق کی پاسداری پر مشتمل قراردادیںپیش کیں۔