آپ بی جے پی کے ساتھ ہیں یا ’انڈیا‘ اتحاد کے؟ کے سی آر سے ادھو کا سوال

   

دستور اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے اپوزیش اتحاد کی تشکیل، عام انتخابات میں کامیابی کا یقین
حیدرآباد: 29 اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ اور بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کی جانب سے قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد سے دوری پر شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے سوال اٹھایا ہے۔ سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے نے کے سی آر سے سوال کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ آیا وہ انڈیا الائنس کے ساتھ ہیں یا پھر بی جے پی کی تائید کررہے ہیں؟ مہاراشٹرا کے ہنگولی میں ریالی سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کے سی آر سے قومی سطح پر موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کے سی آر کو اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے۔ اگر کے سی آر ملک کے مفاد میں فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں انڈیا اتحاد کی تائید کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو عوام کے درمیان اعلان کرنا چاہئے کہ آیا وہ بی جے پی سے مفاہمت کرچکے ہیں!۔ انہوں نے کے سی آر سے اپیل کی کہ وہ سکیولر ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بی آر ایس کی جانب سے مہاراشٹرا کی سیاست میں حصہ لینے سے متعلق سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے چیف منسٹر سے راست سوال کیا۔ شیوسینا سربراہ نے وزیراعظم نریندر مودی اور این ڈی اے اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوامی مسائل کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ قوم پرست پارٹیاں جو ملک میں جمہوریت کا تحفظ کرنا چاہتی ہیں انڈیا الائنس کے تحت اتحاد کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2024 عام انتخابات میں انڈیا اتحاد این ڈی اے کو شکست دے گا۔ یہ اتحاد مودی کے خلاف نہیں ہے بلکہ ملک کے مفاد میں ہے۔