آپ کہتے ہیں کچھ نہیں ہوا ۔ ملک میں بہت کچھ ہورہا ہے

   

Ferty9 Clinic

روش کمار
وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ملک میں کچھ نہیں ہوا اور کچھ نہیں ہورہا ہے جبکہ ملک میں اتنا کچھ ہورہا ہے لیکن انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ موجودہ حالات میں ہم ان لوگوں کیلئے یہی کہہ سکتے ہیں اتنا سب کچھ ہورہا ہے تب بھی آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہا ہے۔ مودی حکومت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہورہا ہیکہ آج کیا ہورہا ہے کسی کو نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کل کیا ہوگا کسی کو نہیں معلوم لیکن کیا ہوا تھا اس کے سب ماہر بن گئے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ دنیا بھر میں مؤرخین کے سب سے بڑے ملک، مؤرخین کی سب سے بڑی پارٹی، مؤرخین کی سب سے بڑی حکومت کی اس خاصیت کو منظرعام پر لاتے ہیں۔ آخر سب ماضی کی ہی بات کریںگے اگر ایسا ہوگا تو حال خود کو نظرانداز کئے جانے کا شکوہ کرے گا۔ ان حالات میں ہم نے سوچا کہ آج کل جو ہورہا ہے اس کی بات کریں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ ہندوستان میں کتنا کچھ ہورہا ہے۔ بہرحال ہم آپ کو ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ بتائیں گے کہ ہندوستان کا مؤرخ اعلیٰ Chief Historian of India کون ہے؟ ہندوستان کے پہلے مؤرخ اعلیٰ کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ ایک اور بات آپ کو بتادیں کہ گٹھالا (اسکام) بڑا نہیں ہوتا بلکہ بڑا ہوتا ہے اسکام کرنے والا۔ اس کی ہمت اسے اسکام سے بھی بڑا بنادیتی ہے۔ سندیشرا کو لیجئے وہ بینک کے کئی ہزار کروڑ روپیہ لیکر بھاگ گیا لیکن سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 5100 کروڑ جمع کرو اور کیس رفع دفع کرو۔ سندیشرا نے 51 سو کروڑ روپئے سپریم کورٹ کی رجسٹری میں جمع کرادیا ہے۔ آج تک کسی اسکام کرنے والے نے اتنی جلدی پیسہ اتنا زیادہ پیسہ واپس نہیں کیا ہوگا۔ سندیشرا ہندوستان کے ہر دھوکہ دہی اور دھوکہ بازوں کا ہیرو ہے۔ اگر ٹھگنے اور لوٹنے کے بعد ملک کا خیال ہے تو وہ واپس بھی کردو۔ سپریم کورٹ کی ایک بنچ کہتی ہے کہ سندیشرا پیسے واپس کرو مقدمات سے نجات پاو۔ سپریم کورٹ کی دوسری بنچ یہ نہیں کہتی اس کے سامنے دوسرا معاملہ آیا۔ ہائی وے لمیٹیڈ کمپنی کا اس پر 52 کروڑ روپئے کے بینک فراڈ کا کیس تھا کمپنی نے 41 کروڑ روپئے ایک وقت میں ادا کردیا تو ہائیکورٹ نے کیس ہی ختم کردیا۔ سی بی آئی جب سپریم کورٹ پہنچی تو سپریم کورٹ نے کہا کہ ون ٹائم پے منٹ کرنے سے کیس ختم نہیں ہوسکتا خاص کر جب کسی سرکاری ادارہ کو نقصان پہنچے اس کا اثر سماج پر پڑتا ہے لیکن سندیشرا کے مقدمہ میں یہ سب تو نہیں ہوا پھر اس کا کیس کیوں ختم ہوا اب آپ یہ امید نہ رکھیں کہ اپنا قرض ادا نہیں کیا۔ ماہانہ اقساط نہیں بھر پارہے ہیں۔ آپ کو بھی سندیشرا کی طرح چھوٹ مل جائے گی۔ حد میں رہئے زیادہ امید مت کیجئے۔ ہمارے پاس کئی ثبوت اور کئی مثالیں ہیں لیکن کسی کا ٹینشن بڑھانا نہیں چاہتے کچھ ہلکے گھٹالوں کی بھی بات کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں کتنا کچھ ہورہا ہے۔ للت پور کے سرکاری ہاسپٹل میں ڈاکٹر راجیو گپتا کی ڈگری پر ایک انجینئر ابھینوسنگھ علاج کررہا تھا، انجینئر علاج کررہا تھا ڈاکٹر کی ڈگری پر ڈاکٹر بن کر دو سال کام کیا تب آپ کہتے ہیں ملک میں کچھ نہیں ہورہا ہے۔ سارے ٹھگوں اور دھوکہ بازوں کی چاندی ہورہی ہے اور آپ کہتے ہیں کچھ نہیں ہورہا ہے۔ تروملا تروپتی دیوستھانم ٹرسٹ نے لوگوں کو تہنیت پیش کرنے میں 54 کروڑ روپئے خرچ کرڈالے وہ بھی صرف دوپٹہ اوڑھانے میں اور اس میں بھی اسکام کی خبر ہے۔ پیسہ دیا گیا سلک کے دوپٹہ کیلئے اور سپلائی ہوئی پالیسٹر کے دوپٹہ کی اور دس برسوں میں کسی کو پتہ بھی نہیں چلا یہ سب اس ملک میں ہورہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی خبر ہی نہیں کہ ملک میں کچھ ہو بھی رہا ہے۔ بہت غلط بات ہے۔ بی جے پی نے شمال مشرقی ریاستوں میں جن سے بھی چندہ لیا ہے انہیں کو بی جے پی حکومتوں نے ٹھیکے بھی دیئے ہیں یہ کتنی اچھی بات ہے۔ بی جے پی کی حکومت جسے ٹھیکے دے گی اسے بی جے پی کو چندہ دینا ہی چاہئے۔ صرف شال کی سپلائی میں لوگ دماغ نہیں لگارہے ہیں ٹھیکہ دے کر چندہ اور چندہ لے کر ٹھیکہ دینا اس میں بھی (دماغ) لگا رہے ہیں۔ آپ درست کہتے ہیں کہ سیاست کو مذہب سمجھنے لگے ہیں اور وہ بھی صحیح کرتے ہیں جو سیاست میں مذہب کی باتیں کرتے رہتے ہیں تب ہی تو اتنا کچھ ہوپارہا ہے۔ پھر بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔ رپورٹرس کلکٹو کی خبر ضرور پڑھئے یہ کہاں ملے گی آپ کو جاگرن اجالا اور ہندوستان میں۔ انگنا چکرورتی نے اپنی رپورٹ میں دکھایا ہے کہ کیسے 2022ء سے 2024ء کے درمیان ہی آسام، تریپورہ، اروناچل پردیش اور منی پور میں بی جے پی کو 77 کروڑ کا چندہ ملا۔ اس کا آدھا پیسہ ان ٹھیکیداروں سے آیا جنہیں ان ریاستوں میں ٹھیکے ملے۔ اروناچل پردیش کے چیف منسٹر کی الگ جانچ ہونے والی ہے۔ اپنے خاندان کے لوگوں کو ہی ٹھیکہ دیتے ہیں۔ ہر ضلع میں ان ہی کی فیملی کو ٹھیکہ ملتا ہے۔ چیف منسٹر پیما کمانڈو کے خاندان کی چار کمپنیوں کو تو انگ میں 146 سرکاری ٹھیکے ملے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ بی جے پی کے چیف منسٹر کے ارکان خاندان عیش کررہے ہیں۔ ٹھیکے پر ٹھیکے لئے جارہے ہیں اور یہاں وزیراعظم نریندر مودی لال قلعہ سے اقربا پروری کی مخالفت کررہے ہیں اور آپ کہتے ہیں ملک میں کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔ بی جے پی نے ان کے خاندان کے ارکان سے چندہ لیا ہے یا نہیں اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔ بی جے پی کو ایک آئیڈیا دینا چاہئے گودی میڈیا کو سینکڑوں کروڑ کے اشتہارات دیئے جاتے ہیں گودی میڈیا میں اب رپورٹنگ تو ہوتی نہیں خرچ نہیں ہوتی۔ مواد کی لاگت کیا ہی ہوگی تو ان سے بھی اشتہارات کے عوض بی جے پی کو چندہ مانگنا چاہئے۔ ٹھیکیدار سے چندہ لیں گے گودی میڈیا سے نہیں لیں گے تو ٹھیکیداروں کو برا لگ سکتا ہے مگر کسی کو برا نہیں لگ رہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کچھ نہیں ہورہا ہے۔ کانگریس لیڈر اجئے ماکن نے راجیہ سبھامیں بتایا ہے 2024ء میں بی جے پی کے بینک کھاتے میں 10 ہزار کروڑ روپئے سے زائد جمع ہوگئے۔ دس ہزار کروڑ کم ہوتا ہے جو پارٹی مذہب (دھرم) اور تاریخ کے تحفظ کیلئے دن رات محنت کررہی ہے اس کے کھاتے میں دس ہزار کروڑ بہت کم ہے۔ آپ سبھی کو ایک کام اور کرنا چاہئے ٹیکس کا پیسہ سیدھے بی جے پی کو دینا چاہئے تاکہ اس کے کھاتے (اکاونٹ) میں کئی لاکھ کروڑ جمع ہوجائیں۔ ایک پارٹی کے پاس 10، 10 ہزار کروڑ روپئے ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں ملک میں کچھ نہیں ہورہا۔ اجے ماکن نے راجیہ سبھا میں کچھ یوں کہا ’’2024 آتا ہے اور حیرت میں ڈالنے والے اعدادوشمار سامنے آتے ہیں۔ 3562 کروڑ سے بڑھ کر بی جے پی کے کھاتے میں 10107 کروڑ روپئے ہوجاتے ہیں اور کانگریس کے اکاؤنٹ میں 133 کروڑ روپہ بی جے پی کے اکاؤنٹ میں کانگریس سے کئی گنا زیادہ رقم ہے تو پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طریقہ سے اپوزیشن حکمراں پارٹی کا مقابلہ کرے گی اور تناسب 99:1 کا ہے۔ بہرحال یہ تالیاں بجانے کی بات نہیں کہ بی جے پی کے پاس 10K کروڑ روپئے ہے آئیے بالکونی میں لائے تھالی۔ جس پارٹی کے پاس 10 ہزار کروڑ ہوں گے اس سے کوئی پارٹی کیا لڑپائے گی۔ 10 ہزار کروڑ روپئے کہاں سے آئے کس فیصلہ کے بعد آرہے ہیں۔ ایک ایک ادارہ سے 750 کروڑ روپئے کا چندہ مل رہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں ملک میں کچھ نہیں ہورہا ہے جو بھی ہے اس کا ستیاناس ہورہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کچھ نہیں ہورہا ہے۔ اتنا کچھ ہورہا ہے اکیلے بی جے پی امیر نہیں ہوئی بلکہ دولتمند مزید امیر ہوتے جارہے ہیں۔ ہندوستان میں ان ہی 10 فیصد کی چاندی تھی اور رہے گی جن کے پاس پہلے سارے ملک کی 57 فیصد دولت تھی جو فی الوقت بڑھ کر 65 فیصد ہوگئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت و جائیدادیں ان ہی کے پاس جارہی ہیں، اس سے پتہ چلتا ہیکہ باقی کتنے غریب رہ جارہے ہیں۔ انہیں غریب بنائے رکھنے کیلئے اور کیا کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں جتنی بھی جائیدادیں (دولت) ہے اس کا 65 فیصد صرف دس فیصد لوگوں کے پاس ہے اس میں سے بھی 40 فیصد ٹاپ ایک فیصد کے پاس ہے کتنی اچھی بات ہے امیر کم ہیں اور غریب زیادہ ہیں۔ کہیں بھی دیکھئے آپ کو اپنے نظر آئیں گے مطلب ایسے سمجھئے کہ آپ کے ضلع کے جتنے بھی امیر ہیں انہیں ایک بلڈنگ میں رکھ دیجئے الگ الگ اپارٹمنٹ میں رکھ دیجئے سو ۔ دوسو اپارٹمنٹ یعنی فلیٹ میں سماجائیں گے تب آپ اپنے ضلع کو دیکھئے سب کے سب غریب نظر آئیں گے۔ آپ کہتے ہیں کچھ نہیں ہورہا ہے۔ نیوز میں نئی باتیں نہیں ہورہی ہیں صرف وندے ماترم ہورہا ہے ایسا بالکل نہیں ہے وندے ماترم بولنے والوں میں 20 فیصد کی چاندی ہی چاندی ہے اور باقی سب رام بھروسے ہیں۔ نقلی نوٹوں کے نام پر نوٹ بندی ہوئی لیکن نقلی نوٹوں کا چلن تو بند نہیں ہوا۔ پچھلے ایک سال کے دوران ملک میں 500 کے نقلی نوٹوں کا چلن 37 فیصد بڑھ گیا ہے۔ مطلب کوئی تو ہے جو نقلی نوٹ چھاپ رہا ہے۔ پھر آپ کہہ رہے ہیں ملک میں کچھ نہیں ہورہا ہے۔