سوشیل میڈیا پر آکسیجن کی طلب ، ذخیرہ اندوزی سے سیلنڈرس کی قلت کا سامنا
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں آکسیجن کی قلت نہ ہونے کے سرکاری دعوؤں میں کس حد تک صداقت ہے اس کا اندازہ گھریلو قرنطینہ میں موجود مریضوں کو آکسیجن کے حصول میں ہونے والی دشواریوں کو دیکھتے ہوئے لگایاجاسکتا ہے جو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر آکسیجن کیلئے درخواست کر رہے ہیں اور اب جو صورتحال ہے اس میں نہ صرف آکسیجن بلکہ آکسیجن سیلنڈرس پر لگائے جانے والے فلو میٹرس کی بھی قلت پیدا ہوچکی ہے اور حکومت تلنگانہ کے وزراء یہ دعوی کررہے ہیں ریاست تلنگانہ میں آکسیجن کی قلت نہیں ہے لیکن آکسیجن کی قلت کہاں نہیں ہے یہ نہیں بتایا جا رہاہے بلکہ صرف اتنا کہا جا رہاہے کہ ریاست میں آکسیجن کی قلت نہیں ہے جبکہ دواخانوں میں آکسیجن کی قلت نہ ہو اس کے انتظامات کئے جا رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے آکسیجن گیاس کے صنعتی استعمال پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ صرف طبی اغراض و مقاصد کیلئے آکسیجن کے استعمال کے فیصلہ کے بعد حالات میں کچھ بہتری پیدا ہوئی تھی کہ ریاست میں مریضوں کی تعدا د میں اضافہ ہونے لگ گیا اور دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں مریضوں کی بڑی تعداد گھروں میں قرنطینہ کئے ہوئے علاج پر توجہ دے رہی ہے۔ جناب حبیب عبدالقادر الحامد (حبیب قلی) مالک نائس گیاس ایجنسی نے بتایا کہ دونوں شہروں میں آکسیجن کی قلت کی بنیادی وجوہات ذخیرہ اندوزی ہے اور جن لوگوں کے پاس مریض نہیں ہیں ان کی جانب سے بھی سیلنڈرس کا ذخیرہ کیا جانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں آکسیجن کی قلت کے خاتمہ کے لئے لازمی ہے کہ حکومت کی جانب سے سیلنڈرس کی کالابازاری پر روک لگائی جائے اور گیاس کے لئے وصول کی جانے والی من مانی قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں۔ تلنگانہ میں گھریلو قرنطینہ کئے ہوئے مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت پڑنے پر حکومت کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ وہ سرکاری دواخانہ سے رجوع ہوں تاکہ انہیں آکسیجن کی سہولت سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملے لیکن جب مریض دواخانوں میں آکسیجن بستروں کی تلاش کے لئے نکل رہے ہیں تو انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کنگس کالونی کے مکین ایک مریض کو سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے سبب 4 دواخانوں کو لیجایا گیا اور ان کے افراد خاندان کی جانب سے آکسیجن سیلنڈر حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہاتھ آئی ہے اور دواخانوں کے چکر کاٹتے ہوئے مریض کی جان چلی گئی اور اس طرح گھریلو قرنطینہ کے دوران آکسیجن کی ضرورت پڑنے پر مریض کی جان چلی گئی ۔