استنبول : ترکیہ نے آیا صوفیہ مسجد کے قدیمی اور خوبصورت گنبدوں کی مرمت و تزئین کا کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند سال پہلے ترکیہ میں اس عالی شان آیا صوفیہ مسجد میں نمازوں کی ادائیگی کا سلسلہ صدر طیب اردغان نے بحال کیا تھا۔تقریبا دیڑھ دہائی کے قریب اس تاریخی اور خوبصورت عمارت کو مصطفی کمال پاشا کے دور میں ترکیہ میں مسلط کیے گئے سیکولر دور میں مسجد کو عبادات کے لیے مکمل بند کر کے اسے ایک عجائب گھر بنا دیا گیا تھا۔ البتہ 2020 سے اسے ایک مسجد کے طور پر عبادت کے لیے کھول دیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ آیا صوفیہ مسجد جو پہلے ایک گرجا گھر تھی اس کی عمارت 1486 سال پرانی ہے۔ تاہم کئی صدیاں پہلے سے یہ آیا صوفیہ مسجد خوب آباد رہی خصوصاً فاتح استنبول محمد فاتح کے دور اور سلطنت عثمانیہ کے عہد میں صدیوں تک مسجد کی ضروریات کا خیال رکھا گیا۔اب گنبدوں کی مرمت کا ایک مشکل مرحلہ درپیش ہے۔ علاوہ ازیں بنیادی ڈھانچے سمیت کئی دوسرے حصوں کی مرمت و تزئین کا کام پہلے سے جاری ہے۔ تاہم ایک قدیم عمارت ہونے کے باعث اس کی مرمت کے دوران کئی ایسے حیران کن پہلو سامنے آئے ہیں جن کی شروع میں توقع نہیں تھی۔ثقافتی املاک کے تحفظ کے ماہر احمد گل کے مطابق اس مرمتی مرحلے میں گنبد کو سکے کی دھات سے پہلے ڈھانپ دیا جائے گا۔ بعد ازاں ’ری انفورسمنٹ‘ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔