’’آیا صوفیہ‘‘ کو مسجد میں تبدیل کرنے کیخلاف یونان میں مظاہرہ

,

   

Ferty9 Clinic

یونانی احتجاجی یوروپ کی بگڑی ہوئی اولاد ، ہمارانماز پڑھنا اُنہیں گوارا نہیں ،ترک پارلیمنٹ کا ردِعمل

ایتھنز۔یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں تاریخی آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف بہت سے افراد نے احتجاج کیا۔مظاہرے کے منتظمین کے مطابق ایتھنز میں تقریباً500سے زائد افراد نے آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کے خلاف جمعہ کو سڑکوں پر آکر مظاہرہ کیا جبکہ پولیس نے کہا کہ مظاہرین کی تعداد صرف 250 تھی۔مظاہرے کے دوران مظاہرین نے ایتھنز کے آرک بشپ اور آل یونان ایرانوموس II کا ایک بیان پڑھا ، جس میں انہوں نے ایک تاریخی چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی مذمت کی تھی۔ ترک سپریم انتظامی عدالت ، کونسل آف اسٹیٹ نے ، حقیقت میں جولائی کے اوائل میں آیا صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے 1934 کے فیصلہ کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا ، یعنی اب اسے مسجد کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اس فیصلہ کی حمایت کی ہے ۔ تاہم اس فیصلے پر پوری دنیا میں منفی ردعمل سامنے آیا ہے اور یونانیوں میں اس چرچ کیلئے اس کی ایک خاص تاریخی اہمیت ہے ۔ ترک پارلیمنٹ نے یونانیوں کے احتجاج پر سخت اعتراض کرتے ہوئے احتجاجیوں کو یوروپ کی بگڑی ہوئی اولاد کہا اور یہ بھی ریمارک کیا کہ آیا صوفیہ مسجد میں یہ بگڑی ہوئی قوم مسلمانوں کو نماز ادا کرتے نہیں دیکھ سکتی۔ تھیسالونیکی میں ان لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ترکی کے باوقار پرچم کو بھی نذرآتش کیا جو ناقابل معافی ہے۔ ان افراد نے اپنی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

اب بھی وقت ہے کہ یونان خواب غفلت سے جاگ جائے۔ 567 سال کی طویل نیند سے اب جاگنے کا وقت آگیا ہے۔ واضح رہے کہ آیا صوفیہ مسجد کو 86 سال بعد دوبارہ نمازوں کی ادائیگی کیلئے کھول دیا گیا ہے اور گزشتہ جمعہ کی نماز وہاں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی تھی۔اس جمعہ کو آیا صوفیہ 1934 ء کے بعد پہلی بار نماز اداکی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔یہاں اس بات کا تذکرہ ایک مرتبہ پھر ضروری ہے کہ مسجد آیا صوفیہ میں تقریباً 1500 افراد بشمول صدر ترکی رجب طیب اردوان نے نماز جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق آیا صوفیہ مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر اطراف میں لوگوں کی زبردست بھیڑ کی وجہ سے مسجد کے احاطے میں مزید افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔واضح رہے کہ آیا صوفیہ کی عمارت جو پہلے میوزیم اور اس سے قبل گرجاگھر تھی، 1500 برس پرانی ہے جہاں ہر سال 30 لاکھ سیاح آتے ہیں۔ یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً 1000 سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ نے 1453ء میں اسے مسجد میں بدل دیا تھا۔ 1934ء میں مصطفٰی کمال اتاترک کے دور ِحکومت میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا اور اِس وقت یہ عمارت اقوام متحدہ کے ورلڈ ہیریٹیج فہرست میں بھی شامل ہے۔

’’آیا صوفیہ ‘‘کی حیثیت پر اِیتھنز اور اَنقرہ میں لفظی جنگ
استنبول ۔ آیا صوفیہ کو ایک میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے حالیہ فیصلے پر ہفتہ کو یونان اور ترکی کے مابین سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا ہے۔ یونان کی تنقید پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوئے نے کہا کہ یہ پیشرفت یونان کی اسلام اور ترکی سے دشمنی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ترک حکام نے ایتھنز حکومت اور پارلیمان کے ارکان کی جانب سے نکتہ چینی کو عوام کو ترکی کے خلاف اُکسانے کی ایک کوشش قرار دیا۔ جواب میں یونانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ موجودہ دور کے ترکی میں مذہبی اور قوم پرستانہ رجحانات پر دنیا حیران زدہ ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز آیا صوفیہ کو باقاعدہ طور پر نمازیوں کیلئے کھول دیا گیا تھا اور صدر ترکی رجب طیب ایردوان نے بھی وہاں نماز ِجمعہ ادا کی تھی۔