خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، کانگریس ترجمان اندرا شوبھن کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔یکم اگست (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کی ترجمان اندرا شوبھن نے چارمینار آیورویدک ہاسپٹل کی طالبات کے ساتھ پولیس کے نازیبا رویہ کی مذمت کی اور کہا کہ تلنگانہ میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہوچکی ہیں۔ اندرا شوبھن نے کہا کہ چارمینار آیورویدک ہاسپٹل کی منتقلی کے فیصلہ کے خلاف طالبات جمہوری انداز میں احتجاج کر رہی تھیں۔ پولیس نے احتجاجیوں کے ساتھ ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دن سے ہاسپٹل کی منتقلی کے فیصلہ کے خلاف طالبات پرامن انداز سے احتجاج کر رہی ہے۔ احتجاج کے بارے میں پولیس کو پہلے ہی واقف کرایا گیا ، اس کے باوجود پولیس نے احتجاجیوں کے ساتھ مجرموں کی طرح سلوک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر پولیس نے جس انداز میں طالبات کے ساتھ جو سلوک کیا وہ قابل اعتراض ہے۔ خاتون کانسٹبل کے ساتھ مل کر مرد کانسٹبل ، سرکل انسپکٹر اور اے سی پی درجہ کے عہدیداروں نے طالبات کے ساتھ بدتمیزی کی ۔ سوشیل میڈیا پر پولیس کے رویہ کی تفصیلات وائرل ہوچکی ہے۔ اندرا شوبھن نے کہا کہ پولیس کے رویہ پر طالبات رو رہے تھے لیکن پولیس نے غیر انسانی سلوک برقرار رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے اوور ایکشن کی ہر کسی نے مذمت کی ہے۔ انہوں نے خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ اندرا شوبھن نے کہا کہ طالبات کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے عہدیداروں اور ملازمین پولیس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 354A کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہئے ۔ اس کے علاوہ انہیں فی الفور معطل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے تلنگانہ میں خواتین کے خلاف مظالم میں اضافہ ہوچکا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ خواتین پر مظالم کی روک تھام کے لئے اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دے۔ خاتون عہدیداروں سے لے کر عام خواتین کو اس طرح کے واقعات کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت نے ویمنس رائٹس کمیشن اور ویمنس کمیشن کو ختم کرتے ہوئے خواتین کو عدم تحفظ کا شکار کردیا ہے۔