ائمہ و موذنین کو کوئی تعطیل نہیں ، پنچوقتہ خدمات برقرار

,

   

Ferty9 Clinic

لاک ڈاؤن سے معاشی صورتحال ابتر ، باعزت طبقہ بے یار و مددگار ، عوام کو دل کھول کر مدد کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) شہر میں آئمہ ومؤذنین کو لاک ڈاؤن میں بھی کوئی تعطیل نہیں ہے بلکہ وہ حسب معمول اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور بیشتر مساجد کو آباد رکھنے کی غرض سے آئمہ و مؤذنین مساجد پہنچ کر اذان اور نماز کی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن مساجد میں مصلیوں کی تعداد نہ کے برابر ہونے کے سبب ان کے معاشی حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے اخراجات کی پابجائی کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔دونوں شہریوں حیدرآباد و سکندرآباد میں شہریوں کی معاشی حالت ابتر ہوچکی ہے اور شہریوں میں انتہائی ابتر حالت میں عزت کے ساتھ زندگی گذارنے والا طبقہ آئمہ و مؤذنین کا ہے لیکن موجودہ حالات میں ان کی جانب کوئی متوجہ نہیں ہورہا ہے بلکہ اس طبقہ کو مکمل نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے جو کہ لمحۂ فکر ہے۔ علمائے اکرام نے مساجد کو مقفل نہ کرنے اور ان میں نماز پنجگانہ کی محدود تعداد میں ادائیگی کے فیصلہ کے ذریعہ آئمہ و مؤذنین کی خدمات کے سلسلہ کو برقرار رکھا ہے لیکن کئی مقامات سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ مساجد کے ذمہ دار اور کمیٹیوں کی جانب سے آئمہ و مؤذنین کی اس کٹھن گھڑی میں انجام دی جانے والی خدمت کو نظر انداز کیا جا رہاہے ۔ اہلیان محلہ کو چاہئے کہ وہ اپنے علاقہ کی مساجد کو آباد رکھنے والے آئمہ و مؤذنین کی مدد کیلئے کشادہ دلی سے ان کا تعاون کریں کیونکہ یہ طبقہ ایک ایسے وقت اللہ کے گھروں کی خدمت انجام دے رہا ہے جبکہ دنیا بھر میں اللہ کے گھروں کو مقفل کیا جا رہاہے اور اہل توحید کو مساجد سے دور رہنے کی تاکید کی جا رہی ہے ۔حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود سرکردہ مساجد کے ذمہ داروں کی جانب سے آئمہ و مؤذنین کو شائد مشاہرہ مل جائے لیکن جو صورتحال ہے اس میں چھوٹی چھوٹی مساجد میں خدمات انجام دینے والے آئمہ و مؤذنین کے مشاہرہ کا بھی مسئلہ پیدا ہوتا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ شہر حیدرآباد میں متمول طبقہ کی جانب سے اور محلہ میں مساجد کیلئے وصول کئے جانے والے چندہ میں آنے والی گراوٹ کے سبب صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

مولانامفتی عمر عابدین مدنی نے کہا کہ محلہ کے متمول مکینوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقہ کی مساجد میں خدمات انجام دینے والے آئمہ و مؤذنین کی اعانت کو ترجیح دیں ۔ حافظ محمد صابر پاشاہ قادری خطیب و امام مسجد حج ہاؤز نے بتایا کہ اللہ کے رسولﷺ نے مؤذن کا جو مقام و مرتبہ بیان کیا ہے وہ شہید سے قریب ہے ۔ انہوں نے موجود ہنگامی حالات میں آئمہ و مؤذنین کی خدمات کے مشاہرہ میں دوگنا سے زیادہ اضافہ کرتے ہوئے ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کی جانب سے آئمہ و مؤذنین کو عام طور پر 7تا8ہزار روپئے مشاہرہ دیا جاتا ہے اور اس میں ہی وہ تکلیف سے گذر بسر کرتے ہیں اور اب جو حالات ہیں ان میں گرانی میں اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی کے سبب حالات انتہائی تکلیف دہ ہوتے جا رہے ہیں اور اب ماہ رمضان المبارک کی آمد ہونے والی ہے ایسے میں اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اسی لئے اس ماہ مبارک کے پیش نظر مساجد کی کمیٹیوں اور اہل خیر حضرات کو مساجد کے آئمہ اور مؤذنین کا خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔