حالیہ بارش و تیز ہواؤں سے منار گر کر تباہ ، چھت اُڑگیا
حیدرآباد ۔ 31 ۔ مئی ( سیاست نیوز ) ہمارے تاریخی شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد اور اس کے اطراف و اکناف میں جو تاریخی عاشور خانہ دکھائی دیتے ہیں ان میں سے زیادہ تر قطب شاہی دور حکومت میں تعمیر کئے گئے ۔ ایسے ہی تاریخی عاشور خانوں میں ابراہیم پٹنم میں واقعہ چلہ مولا علی بھی شامل ہے جس کی تعمیر ابراہیم قطب شاہ نے کروائی تھی ۔ ابراہیم پٹنم بھی ان سے موسوم ہے ۔ ابراہیم قلی قطب شاہ قطب شاہی سلطنت کے وہ پہلے حکمراں تھے جن کے نام کے ساتھ سلطان جوڑا گیا اس طرح وہ سلطان ابراہیم قلی قطب شاہ ہوگئے ۔ واضح رہے کہ وہ اپنی رعایا میں کافی مقبول تھے یہی وجہ ہیکہ تلگوداں عوام انہیں مالکی بھراما کیا کرتی تھی ۔ انہوںنے 1558 تا 1580 حکومت کی ۔ آپ کو بتادیں ابراہیم پٹنم حیدرآباد سے صرف 32 کلو میٹر فاصلہ پر واقع ہے یہاں جو 700 سالہ قدیم چلہ مولا علی ہے آج بوسیدگی کا شکوہ کررہا ہے ۔ آرکائیوز سے بلکہ وقف بورڈ تمام کے تمام اس عاشور خانہ اور چلہ سے مجرمانہ غفلت برتے ہوئے ہیں نتیجہ میں حالیہ بارش کے دوران اس کے ٹین شیڈس اُڑگئے ہیں ۔ عقیدت مندوں کی جانب سے یہ شیڈس نصب کئے گئے تھے ۔ متولی محمد یوسف نے بتایا کہ چلہ مولاعلی کے مینار بھی گر گئے ہیں ۔ اس ضمن میں انہوں نے حکام سے فوری حرکت میں آتے ہوئے اس تاریخی عاشور خانہ کی تزئین نو کرنے کی اپیل کی تاکہ زائرین اور عقیدت مندوں کو سہولت ہو ۔