ابوظہبی کے این ایم سی ہیلت اسکام کا انکشاف

,

   

مالی بے قاعدگیوں کے بعد ہاسپٹل کا بانی بی آر شیٹی ہندوستان فرار، برطانیہ کی عدالت میں مقدمہ

ابوظہبی 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ابوظہبی کمرشیل بینک (اے ڈی سی بی) نے این این سی ہیلت کا مشترکہ انتظامیہ سنبھالنے کے لئے برطانیہ کی عدالت میں درخواست داخل کی کیوں کہ بینک کا کہنا ہے کہ ہاسپٹل کے آپریٹر بینک کا 6.6 بلین امریکی ڈالر کا قرض باقی ہیں اور وہ اُس کے ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اِس درخواست کے بعد برطانوی عدالت نے ایک بڑا فیصلہ لیا اور ابوظہبی این ایم سی ہیلت کو عدالت کی نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے اب ہاسپٹل کے پورے انتظامیہ کی نگرانی کے لئے ایڈمنسٹریٹرس کا تقرر کیا جائے گا۔ یہ یو اے ای کا سب سے بڑا ہاسپٹل ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کے بلینر بی آر شیٹی اِس ہاسپٹل کے بانی اور چیف ایکزیکٹیو آفیسر ہیں جو مبینہ طور پر کمپنی میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کے بعد اپنے وطن ہندوستان فرار ہوگئے ہیں۔ فروری 2020 ء میں کمپنی کی جانب سے مسلسل اعلانات جاری کرنے کے بعد این ایم سی کو درپیش مالی مشکلات کی تصویر واضح ہوئی جن میں بھاری قرضہ بھی شامل ہے۔ اِس انکشاف کے بعد بینک نے محسوس کیاکہ 80 سے زیادہ بڑے ریجنل اور انٹرنیشنل فینانشیل ادارے ہیں جن کو گروپ کے ذریعہ قرض دیا گیا ہے۔ این ایم سی ہیلت نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے کئی بینکوں سے بھاری رقم بطور قرض حاصل کی ہے۔ ایچ ایس بی سی بینک عمان نے بھی انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 16 ملین امریکی ڈالر ہیلت کیئر فرم این ایم سی کو دیئے گئے۔ دوبئی اسلامک بینک نے بتایا کہ 425 ملین این ایم سی کی جانب سے باقی ہیں۔ ابوظہبی اسلامک بینک کے 291.4 ملین امریکی ڈالر باقی ہیں جبکہ این ایم سی ہیلت میں 31 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ این ایم سی اسپیشالیٹی ہاسپٹل ڈاکٹر باوا گتھا رگھورام شیٹی المعروف بی آر شیٹی نے 1975 ء میں قائم کیا تھا۔ 19 ممالک میں اِس کے ہاسپٹلس ہیں۔ 2 ہزار ڈاکٹرس اور تقریباً 20 ہزار طبی عملہ کام کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ملک میں اپنا کاروبار جمانے سے قبل ڈاکٹر بی آر شیٹی کو ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں سیاستداں کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی نے بی آر شیٹی کے لئے اُس وقت مہم میں حصہ لیا تھا جب وہ جن سنگھ کے تحت اڈپی بلدی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ 2016 ء میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے خلیجی ملکوں میں اپنے ایجنڈے کو مستحکم بنانے کے لئے کیرالا میں این آر آئی بزنسمینس کے ساتھ بند کمرہ میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔ اُس اجلاس کے نامور این آر آئیز تاجرین میں بی آر شیٹی بھی شامل تھا۔ بی آر شیٹی بی جے پی کی حمایت کیلئے جانے جاتے ہیں۔