ابو سالم نے بڑے بھائی کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے 14 روزہ پیرول کی درخواست کی تھی
ممبئی ۔ /13جنوری :(ایجنسیز) مہاراشٹر حکومت نے گینگسٹر ابوسالم کی پیرول سے متعلق درخواست پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے بامبے ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی مجرم ہے، اس لیے اسے 14 دن کی پیرول دینا ممکن نہیں۔ حکومت کے مطابق ابو سالم کو زیادہ سے زیادہ پولیس تحفظ کے ساتھ صرف دو دن کی ایمرجنسی پیرول دی جا سکتی ہے، جس کے اخراجات بھی اسی کو برداشت کرنا ہوں گے۔یہ معاملہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مقدمے سے جڑا ہوا ہے، جس میں سزا یافتہ ابو سالم نے اپنے بڑے بھائی کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے 14 دن کی پیرول کی درخواست کی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سرکاری وکیل دیشمکھ نے عدالت کو بتایا کہ جیل حکام کی رپورٹ کے مطابق ابو سالم کے ماضی اور اس کی مجرمانہ حیثیت کے پیش نظر طویل پیرول دینا سیکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔دوسری جانب ابو سالم کی وکیل فرحانہ شاہ نے حکومت کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو دن کی پیرول ناکافی ہے، کیونکہ ابو سالم کو اپنے بھائی کی آخری رسومات اور دیگر مذہبی امور کے لیے اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ جانا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ابو سالم دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جیل میں ہے اور وہ ایک ہندوستانی شہری ہے، اس لیے پولیس تحفظ کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس اجے گڈکری اور جسٹس شیام چانڈک پر مشتمل بنچ نے مہاراشٹر حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کرے، جس میں ابو سالم کو 14 دن کی پیرول دینے سے متعلق اپنے تمام خدشات اور اعتراضات کی وضاحت کی جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔