ممبئی ، 20 جنوری (یو این آئی) مہاراشٹر حکومت نے منگل، 20 جنوری کو 1993 کے ممبئی بم دھماکہ کیس کے مجرم ابو سالم کی 14 دن کی پیرول درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اگر اسے پیرول دی گئی تو اس کے فرار ہونے کا سنگین خدشہ ہے ، جس سے ہندستان اور پرتگال کے درمیان سفارتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ابو سالم کو پرتگال سے حوالگی کے معاہدے کے تحت ہندستان لایا گیا تھا۔ریاستی حکومت کی جانب سے ایک حلف نامہ داخل کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ابو سالم نے اپنے بڑے بھائی ابو حکیم انصاری کی موت کا حوالہ دے کر 14 دن کی پیرول مانگی ہے تاکہ آخری رسومات میں شرکت کر سکے ۔ تاہم حکومت نے موقف اختیار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 2 دن کی ایمرجنسی پیرول دی جا سکتی ہے ، وہ بھی پولیس کے پہرے میں۔سماعت کے دوران سی بی آئی نے خود کو اس درخواست میں فریق بنانے کی استدعا کی، کیونکہ وہ اس کیس میں استغاثہ کی ایجنسی ہے ۔ سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ اگر ابو سالم کو پیرول دی جاتی ہے تو اس سے قانون و امن کی صورتحال بگڑ سکتی ہے ۔جیل خانہ کے انسپکٹر جنرل سہاس وارکے کی جانب سے داخل حلف نامے میں کہا گیا کہ ابو سالم ایک “بین الاقوامی گینگسٹر” ہے جو کئی دہائیوں سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے ۔ حلف نامے میں یاد دلایا گیا کہ 1993 میں بھی وہ ملک سے فرار ہو چکا تھا، اس لیے اگر اسے پیرول دی گئی تو دوبارہ فرار ہونے کا اندیشہ ہے ۔حلف نامے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومتِ ہند، پرتگال حکومت کو ابو سالم کی حوالگی کے وقت دی گئی یقین دہانیوں اور شرائط کی پابند ہے اور کسی بھی خلاف ورزی سے بین الاقوامی سطح پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔