ٹو کیو۔ جاپانی میڈیا نیہون کیزائی شمبن نے نیو ورلڈ آرڈر پر امریکہ اور ہندوستان کے اختلافات کے موضوع پر ایک مضمون شائع کیا ہے۔ مضمون کی مصنفہ روپا سبرامنیا ہیں، جو کینیڈا کی ایشیا پیسفک فاؤنڈیشن کی ایک خصوصی ریسرچ فیلو ہیں۔ مضمون میں لکھا گیا ہے کہ موجودہ انتہائی افراتفری کی دنیا میں مختلف ممالک کے قائد مسلسل ایک نئے بین الاقوامی نظام کی بات کر رہے ہیں۔ جو بائیڈن نے مارچ میں کہا کہ ہمیں ایک نئے بین الاقوامی نظام کی پیدائش کی قیادت کرنی چاہیے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حال ہی میں کہا کہ نئے بین الاقوامی نظام میں، ہندوستان کیلئے ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ضروری ہے۔ جو بائیڈن ایک ایسے نیو ورلڈ آرڈر کی تشکیل چاہتے ہیں جس کا کنٹرول امریکہ اور مغربی ممالک کے زیر تسلط ہو۔ دوسری طرف ہندوستان جیسے زیادہ تر ابھرتے ہوئے ممالک اس نیو ورلڈ آرڈر کو دوسری جنگ عظیم کے ورثے کے طور پر دیکھتے ہیں۔جیسا کہ یوکرین کے تنازعہ کے حوالے سے مختلف ممالک کے رویوں سے دیکھا جا سکتا ہے، زیادہ تر ابھرتے ہوئے ممالک اس پرانے نظام کو نہیں دیکھنا چاہتے جس کو بائیڈن بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بائیڈن جس نیو ورلڈ آرڈر کی بات کر رہے ہیں وہ ابھرتے ہوئے دیگر بین الاقوامی ممالک کی توقعات اور سوچوں سے بہت مختلف ہے۔