ابھیجیت ڈپکے کو امن متاثر نہ کرنے کی شرط پر ضمانت ‘ پولیس اسٹیشن سے رہائی

,

   

50 ہزار روپئے کا بانڈ جمع کروانے کی ہدایت ۔ طلباء لیڈر نیہا بورا کو بھی رات بھر کی حراست کے بعد رہا کردیا گیا

نئی دہلی 17 اکٹوبر ( ایجنسیز ) کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو دہلی کی ایک عدالت نے آج ضمانت فراہم کردی اور ان پر کچھ شرائط عائد کی گئیں۔ واضح رہے کہ ابھیجیت ڈپکے کو کل کناٹ پیلس میں لہرادو ترنگا مارچ سے قبل حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں ان کی باضابطہ گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی ۔ ابھیجیت ڈپکے کو 50 ہزار روپئے کا ایک بانڈ داخل کرنے اور یہ عہد کرنے کو کہا گیا کہ وہ امن کیلئے خطرہ نہیں بنیں گے ۔ ابھیجیت ڈپکے کی عدالت کی جانبس ے ضمانت منظوری کے بعد مندر مارگ پولیس اسٹیشن سے رہائی عمل میں لائی گئی ۔ واضح رہے کہ ابھیجیت ڈپکے کے علاوہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کو بھی کل حراست میں لیا گیا تھا ۔ انہیں رات بھر حراست میں رکھنے کے بعد ضابطہ کی کارروائی پوری کرنے کے بعد صبح رہا کیا گیا ۔ اس کے علاوہ سی جے پی کے قائدین آشوتوش رانکا اور سورو داس جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کے بعد سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ واضح رہے کہ جنتر منتر کو گذشتہ ہفتے احتجاج کے مقام سے ڈی نوٹیفائی کردیا گیا تھا ۔ پولیس نے کہا کہ نیہا بورا اور ابھیجیت ڈپکے کو احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا جبکہ وہ لہرادو ترنگا مارچ میں حصہ لینے روانہ ہو رہے تھے ۔ ترنگا لہرادو مارچ کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اہتمام کیا جا رہا تھا ۔ ان دونوں کی حراست کے باوجود کناٹ پیلس علاقہ میں ترنگا لہرادو احتجاج منظم کیا گیا تھا اور طلباء و نوجوان اس میں شریک ہوئے تھے ۔ آج اپنی رہائی کے بعد ایکس پر اپنے پہلے رد عمل میں ابھیجیت ڈپکے نے ویر زارا فلم سے بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کی ایک تصویر پوسٹ کی جو فلم میں 22 سال بعد ان کی جیل سے رہائی کی تھی اور شاہ رخ خان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ ڈپکے نے تحریر کیا کہ جب آپ 24 گھنٹے بغیر وائی فائی اور فون کے رہنے کے بعد جیل سے رہا ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے ۔ پتہ چلا ہے کہ ابھیجیت ڈپکے اپنی رہائی کے بعد این سی پی شرد پوار گروپ کے ترجمان انیش گاونڈے کی قیامگاہ پہونچے تھے ۔ نیہا بورا نے بھی اپنی رہائی کے بعد دہلی پولیس پر تنقید کی اور مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ حراست میں لینے کی کارروائی غیر قانونی تھی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں متنازعہ ایس آئی آر کے عمل کو ختم کیا جائے ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفی لیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے ۔