معیاری سفری سہولتوں کیلئے حکومت کی منصوبہ بندی، ہڑتالی ملازمین سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی
حیدرآباد۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) اب آر ٹی سی کو بھول جائیں، ماہ نومبر تک حکومت عوام کو سفری سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات مکمل کرلے گی۔چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کردیا کہ آر ٹی سی ہڑتالی ملازمین سے اب کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی اور نہ ہی آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کی کوئی گنجائش ہے۔ انہو ںنے تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونین ازم نے آر ٹی سی کو تباہ کردیا ہے اور جب یونین نہیں ہوگی تو 2سال میں ایک مرتبہ ملازمین کو ایک لاکھ روپئے بونس دیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آر ٹی سی ملازمین کو ہڑتال پر جانے سے روکنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے گئے اور اسپیشل چیف سیکریٹری کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن آر ٹی سی ملازمین نے مذاکرات کے دوران جو موقف اختیار کیا اس وقت بھی انضمام پہلی شرط کہا جاتا رہاجبکہ حکومت نے کوئی وزراء کی سیاسی کمیٹی تشکیل نہیں دی جو کہ حکومت کی سنجیدگی کی دلیل تھی۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آرٹی سی ملازمین معصوم تھے جو کہ یونین کی سیاست کا شکار ہوچکے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ اب جو بس خدمات ہوں گی ان میں کوئی یونین نہیں ہوگی اور حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ انہو ںنے آرٹی سی کے انضمام کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 57 کارپوریشن ہیں اوراگر یہ ایک مطالبہ قبول کیا جاتا ہے تو مابقی 56 بھی مطالبہ کریں گے۔ انہو ںنے کہا کہ جب ریاست میں خانگی بس مالکین بس خدمات کے ذریعہ منافع حاصل کر رہے ہیں تو آر ٹی سی کیوں نقصان ہیں، اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت اگر سفری سہولتوں کی خدمات کو خانگیانے کا ارادہ رکھتی تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے لئے انہیں کوئی کابینہ کے اجلاس کی بھی ضرورت نہیں ہے وہ اگر روٹ پرمٹس جاری کرنے لگ جائیں تو تمام سہولتیں حاصل ہوتی چلی جائیں گی لیکن وہ آر ٹی سی کو ختم کرنا نہیں چاہتے بلکہ اسے منافع بخش ادارہ بنانے کے حق میں ہیں۔ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے گذشتہ 4برسوں کے دوران آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہوں میں 67 فیصد کا اضافہ کیا گیاہے۔ انہو ںنے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آرٹی سی ملازمین کی تائید میں احتجاج کیا جا رہاہے اور جو قائدین احتجاج کررہے ہیں وہ گذشتہ پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے قوانین کا جائزہ لیں جو آرٹی سی کو خانگیانے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں آر ٹی سی کے خاتمہ کے سلسلہ میں کہا کہ کانگریس اس کیلئے ذمہ دار ہے اور یہاں کانگریس آر ٹی سی ملازمین کے لئے احتجاج کر رہی ہے۔ملازمین کے افراد خاندان کی کسم پرسی اور بدحالی کے متعلق سوال کئے جانے پر چیف منسٹر نے کہا کہ ہڑتال سے قبل ملازمین کو اپنے افراد خاندان کے متعلق فکر کرنی چاہئے تھی۔ انہو ںنے کہا کہ ریاستی حکومت کسی کو بھی مایوس کرنے کے حق میں نہیں ہے لیکن جب غیر قانونی ہڑتال کی جاتی ہے تو کاروائی حکومت کی ذمہ داری ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ لیبر کی جانب سے آر ٹی سی کی اس ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے اور عدالت بھی اس میں دخل نہیں دے سکتی کیونکہ لیبر قوانین کی سماعت کیلئے علحدہ فورم موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اپنے موقف پر برقرار ہے اور عدالت نے جو مداخلت کی ہے وہ عوام کو ہونے والی تکالیف کے سبب کی ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو سفری سہولتیں فراہم کرے اور حکومت اس کیلئے اقدامات میں مصروف ہے اور آرٹی سی کی جانب سے خانگی بسوں کو کرایہ پر حاصل کیا جا رہاہے ۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملازمین کی ہڑتال کے سبب ریاست میں آرٹی سی کو یومیہ 3کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ عدالت نے آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہوں کے سلسلہ میں جاری مقدمہ کے دوران آر ٹی سی اور حکومت سے دریافت کیا کہ تنخواہیں کیوں جاری نہیں کی گئی ہیں تو آرٹی سی انتظامیہ نے جواب دیتے ہوئے عدالت کو مطلع کردیا کہ کارپوریشن کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسہ نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آر ٹی سی برائے نام ادارہ باقی رہ گیاہے اب اس کا کوئی وجود باقی نہیں ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت معیاری سفری سہولتوں کی فراہمی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں عوام کو کوئی مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔