اب بھارت پٹرولیم بھی فروخت ہوگا ‘ حکومت نے بولیاں طلب کیں

   

تمام 52.98 فیصد سرکاری حصہ داری فروخت ہوگی ۔ 2 مئی تک بولی دینے کی سہولت۔ ملک کی سب سے بڑی خانگیانے کی مہم
نئی دہلی 7 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک میں اب تک کی سب سے بڑی خانگیانے کی مہم کے دوران حکومت نے آج ملک کے دوسرے سب سے بڑے آئیل ریفائنر ادارہ بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹیڈ ( بی پی سی ایل ) میں اپنی 52.98 فیصد حصہ داری کو فروخت کرنے کیلئے بولیاں طلب کی ہیں۔ محکمہ سرمایہ کاری و عوامی اثاثہ جات مینجمنٹ کی جانب سے بولی کا دستاویز جاری کیا گیا ہے جس کے تحت بی پی سی ایل کی فروخت میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد و اداروں سے 2 مئی تک بولیاں طلب کی گئی ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند بی پی سی ایل میں اپنی مکمل حصہ داری فروخت کرتے ہوئے سرمایہ نکاسی کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ اس ادارہ میں حکومت کے 114.91 کروڑ شئیرس ہیں جو بی پی سی ایل کا 52.98 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت اپنی حصہ داری کی فروخت کے ذریعہ بی پی سی ایل کا مینجمنٹ بھی امکانی خریدار کو منتقل کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے تاہم یہ سہولت بی پی سی ایل کی ایکویٹی شیر ہولڈنگ کو حاصل نہیں رہے گی ۔ نومالیگڑھ ریفائنری لمیٹیڈ یہ شیر ہولڈنگ کمپنی ہے اور اسے ایک سرکاری تیل و قدرتی گیس کمپنی کو فروخت کردیا جائیگا ۔ بولی کا عمل دو مراحل پر مشتمل رہے گا ۔ پہلے مرحلے میں کوالیفائیڈ بولی دہندگان کو اپنی دلچسپی کا اظہار کرنا ہوگا جس کے بعد دوسرے مرحلہ میں معاشی بولی دینا ہوگا ۔ بولی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جو سرکاری کمپنیاں ہیں وہ خانگیانے کے اس عمل میں بولی دینے کی اہل نہیں ہونگی ۔ دستاویز کے مطابق جس کسی کمپنی کی نقد مالیت 10 بلین ڈالرس تک ہوگی وہ اس سرمایہ نکاسی کیلئے بولی دینے کی اہل ہوگی اور چار کمپنیوں سے زیادہ والے کسی کنسورشیم کو بھی بولی دینے کی اجازت نہیںہوگی ۔ بولی کیلئے جو شرائط شرکھی گئی ہیں ان میں کنسورشیم کے کسی سر فہرست رکن کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اس کنسورشیم میں 40 فیصد تک حصہ داری رکھتا ہو اور دوسرے حصہ داروں کیلئے ضروری ہوگا کہ ان کی جملہ مالیت نقدی میں ایک بلین ڈالرس اقل ترین ہو ۔ کنسورشیم میں تبدیلی کا موقع بولی سے 45 دن کے دوران تک حاصل رہے گا تاہم اس کے سر فہرست رکن کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹیڈ کے ذریعہ خریدار کو فوری طور پر ہندوستان کی تیل ریفائنری صلاحیت میں 14 فیصد کی حصہ داری مل جائیگی اور اس کے ذریعہ ایک چوتھائی فیول مارکٹ کی حصہ داری بھی ملے گی ۔ ہندوستان تیزی سے ابھرتی ہوئی توانائی مارکٹ کہا جاتا ہے ۔ بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹیڈ کی مارکٹ سرمایہ کاری جملہ 87,388 کروڑ روپئے کی ہے اور حکومت کی جو حصہ داری ہے وہ 46,000 کروڑ روپئے تک کی بتائی گئی ہے ۔ کامیاب بولی دہندہ کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ مزید 26 فیصد حصص اسی قیمت پر حاصل کرنے کیلئے دوسرے شیر ہولڈرس کیلئے کھلی پیشکش کرے ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے بجٹ 2020-21 میں سرمایہ نکاسی کیلئے 2.1 لاکھ کروڑ روپئے کا نشانہ رکھا تھا جس کی تکمیل کیلئے بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹیڈ میں سرکاری حصہ داری کی فروخت ضروری ہوگئی ہے ۔ بی پی سی ایل کی جانب سے چار ریفائنریز چلائی جاتی ہیں جن میں ممبئی ( مہاراشٹرا ) کوچی ( کیرالا ) بینا ( مدھیہ پردیش ) اور نومالیگڑھ ( آسام ) شامل ہیں۔ ان تمام کی جملہ صلاحیت 38.3 ملین ٹن سالانہ ہے جو ہندوستان کی جملہ ریفائنری صلاحیت کا 15 فیصد حصہ بنتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ نومالیگڑھ ریفائنری کو بی پی سی ایل سے علیحدہ کردیا جائیگا اور اسے ایک نئی سرکاری کمپنی کو فروخت کردیا جائیگا ۔ کمپنی کے نئے خریدار کو 35 ملین ٹن ریفائنری کی اجازت دی جائیگی ۔ بی پی سی ایل کے ملک بھر میں 15,177 پٹرول پمپس اور 6,011 گیس ڈسٹریبیوشن ایجنسیاں ہیں۔ اس کے علاوہ 51 ایل پی جی باٹلنگ پلانٹس بھی اس کے تحت ہیں۔ ملک میں استعمال ہونے والی پٹرولیم اشیا میں 21 فیصد کی تقسیم بی پی سی ایل سے عمل میں آتی ہے ۔