اب بہت ہو چکا، غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے: انٹونیوگوٹیرس

   

اقوام متحدہ کے تمام اداروںکا سخت موقف، شہریوں کی اموات پر اظہاربرہمی

نیویارک: اقوام متحدہ کے تمام اہم اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں غزہ میں شہری اموات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے پیر کے روز بھی غزہ پر شدید حملے کیے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹیرس نیز اس عالمی ادارے کے تمام اہم ذیلی اداروں کے سربراہان نے بھی کل ایک غیر معمولی مشترکہ بیان میں غزہ پٹی کے علاقے میں شہری اموات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں بشمول یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک بیان میں کہا کہ تقریبا ًایک ماہ سے دنیا صدمہ اور خوف کے عالم میں اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورت حال کا مشاہدہ کر رہی ہے جہا ں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تباہی بڑھتی جا رہی ہے۔اس بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں ایک پوری آبادی محصور اور حملوں کا شکار ہے، وہ زندہ رہنے کے لیے ضروری اشیاء تک کی رسائی سے محروم ہیں۔ وہاں عام باشندوں کے گھروں، پناہ گاہوں، ہاسپٹلس اور عبادت گاہوں پر بھی بمباری کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ ناقابل قبول ہے۔اقوام متحدہ کی اٹھارہ تنظیموں کے سربراہوں کے دستخطوں سے جاری کردہ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ہمیں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فوراً جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ 30 دن ہو چکے۔ بس بہت ہو گیا۔ اسے بند ہونا چاہیے۔ اس بیان میں سات اکتوبر کے بعد دونوں طرف ہونے والی اموات کا ذکر کیا گیا ہے۔اس بیان میں حماس سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قیدی بنائے گئے 240 سے زائد یرغمالیوں کو رہا کرے اور فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے دوران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پورا پورا خیال کریں۔اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے رہنماؤں نے کہا کہ غزہ میں مزید خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن لے جانے کی اجازت دی جانا چاہیے تاکہ محصور آبادی کی مدد کی جا سکے۔غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے مسلسل فضائی اور زمینی حملوں سے اموات کی تعداد 10 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔مہلوکیں میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بھی ہے ۔ جنگ سے متاثرہ افراد کو نہ طبی سہوتیں فراہم ہورہی ہیں اور نہ ہی غذائی اشیاء میسر ہیں ۔