اب تاریخی مکہ مسجد بھی خطرہ میں

,

   

وقف بورڈ سے شکایت، دیوار اور مینار کو نقصان

حیدرآباد: تاریخی مکہ مسجد کے تحفظ کے سلسلہ میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی لاپرواہی مسلمانوں میں مایوسی اور ناراضگی کا سبب بن چکی ہے۔ مکہ مسجد کے مرمتی اور تزئین نو کے کاموں کی مقررہ وقت پر تکمیل میں ناکام آرکیالوجیکل سروے کے عہدیدار مسجد کی دیوار سے متصل تعمیری سرگرمیوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں سے مرمتی کاموں کی عدم تکمیل کے نتیجہ میں مسجد کی چھت اور دیواروں کو نقصان پہنچا تو دوسری طرف مسجد کی بیرونی دیوار کے حقیقی موقف کو تبدیل کرتے ہوئے خانگی تعمیراتی سرگرمیاں مقامی مسلمانوں اور مصلیوں میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ اور مکہ مسجد کے عہدیدار کی توجہ دہانی کے باوجود تعمیری سرگرمیاں جاری ہیں اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے عہدیداروں کو مسجد کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مکہ مسجد کا انتظام چونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کی راست نگرانی میں ہے ، لہذا وقف بورڈ کے عہدیدار غیر مجاز سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ پنچ محلہ کی جانب واقع مسجدکی دیوار سے متصل نئی تعمیر کا کام گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تعمیر کے سلسلہ میں مسجد کی دیوار پر موجود نقش و نگار اور چھوٹے میناروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ کسی بھی تاریخی عمارت کے اطراف تعمیری سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی لیکن مکہ مسجد کے معاملہ میں سیاسی اثر و رسوخ کے سبب عہدیدار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تعمیر کے دوران مسجد کی دیوار اور بعض حصوں کو نقصان پہنچایا گیا جس کی اطلاع تلنگانہ وقف بورڈ کو دی گئی اور وقف بورڈ کے عہدیداروں نے پہنچ کر تعمیری کام کو روک دیا تھا لیکن یہ مداخلت اس لئے اثرانداز نہیں ہوسکی کہ وقف بورڈ کے تحت مکہ مسجد کا انتظام نہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں بھی اس طرح کی سرگرمیوں پر عہدیداروں نے روک لگادی تھی لیکن اس مرتبہ مقامی جماعت کی سرپرستی میں تعمیری سرگرمیوں کی شکایت ہے۔ آرکیالوجیکل سروے کے قانون کے مطابق کسی بھی تاریخی عمارت کے قریب کھدائی یا کسی اور تعمیری سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہاں تو مسجد کی دیوار کو نقصان پہنچاتے ہوئے نئی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے ۔ مقامی افراد نے آج اس سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے نمائندگی کی۔ انہوں نے اس مسئلہ کو اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں اور آرکیالوجیکل سروے سے رجوع کرنے کا تیقن دیا ہے۔ مصلیان مسجد نے وزیر داخلہ محمد محمود علی سے درخواست کی ہے کہ وہ اس جانب فوری توجہ مبذول کرتے ہوئے تاریخی مکہ مسجد کا تحفظ کریں۔