سیاحت کی دنیا میں عنقریب انقلاب ، مصنوعی ساحل سمندر تیار کرنے حکومت کا بڑا فیصلہ
دسمبر سے تعمیری کاموں کا آغاز ، 35 ایکر اراضی پر 225 کروڑ کی لاگت
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کے شہریوں کے لیے ایک انقلابی تبدیلی آنے والی ہے ۔ حکومت نے شہر کے کوتوال گوڑہ میں مصنوعی ساحل (Artifical Beach) قائم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے ۔ اس منصوبے پر کام شروع ہوتے ہی شہریوں کو سمندر جیسا لطف اور تفریح حیدرآباد کے مضافات میں دستیاب ہوگا ۔ اب تک حیدرآباد کے عوام ساحل سمندر سے لطف اندوز ہونے کے لیے گوا ، ویزاگ اور کیرالا کا رخ کرتے تھے ۔ جب کہ مالی استطاعت رکھنے والے بیرون ممالک کے ساحلوں پر چھٹیاں گزارتے تھے ۔ تاہم اب یہ خواب شہر میں ہی پورا ہوگا ۔ اس اعلان کے بعد عوام اس کو مذاق تصور کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں سمندر نہیں ہے اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ماہ اپریل گذر چکا ہے ۔ کیا اپریل فل بنایا جارہا ہے ۔ مگر یہ حقیقت ہے ۔ بہت جلد حیدرآباد میں ساحل سمندر کا ماحول فراہم کیا جارہا ہے ۔ جدید ٹکنالوجی مدد سے تیار ہونے والا یہ ( Artifical Beach ) شہریوں کو اصل ساحل سمندر جیسا ماحول فراہم کرے گا ۔ یہاں ریت ، پانی کی لہریں اور دیگر سہولتیں اس انداز میں فراہم کی جائیں گی کہ عوام کو سمندر کے قریب ہونے کا احساس ہوگا ۔ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کو تفریح کا نیا ذریعہ ملے گا بلکہ حیدرآباد کی سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا ۔ حکومت نے نجی شراکت داری (PPP) ماڈل کے تحت 35 ایکر اراضی پر 225 کروڑ روپئے کی لاگت سے مصنوعی ساحل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس منصوبے پر دسمبر سے تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا ۔ تفصیلات کے مطابق اس مصنوعی ساحل پر فوٹو گرافی ولاز ، لگثری ہوٹلس ، ویو پولس ، تھیٹرس ، فوڈ کورٹس اور دیگر عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی شہریوں کو ایک منفرد اور شاندار تجربہ حاصل ہوا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد حیدرآباد کے عوام کو تفریح کے لیے اب گوا ، ویزاگ یا کیرالا جانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ بلکہ یہ سہولت شہر میں دستیاب ہوگی ۔ یہ منصوبہ نہ صرف شہریوں کے لیے بڑی خوشی کا باعث بنے گا ۔ بلکہ سیاحت اور مقامی معیشت کو بھی فروغ دے گا ۔۔ 2