نینی تال: اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے بدھ کو جاری اپنے اہم فیصلے میں ریاست بھر میں شاہراہوں اور سڑکوں کے ساتھ سرکاری اور جنگلاتی زمین سے تجاوزات ہٹانے کی ہدایت دی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس (ڈی ایم) اور ڈویژنل فاریسٹ آفیسرز (ڈی ایف او) سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ چار ہفتوں میں عدالت میں عمل درآمد رپورٹ پیش کریں۔چیف جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس راکیش تھپلیال کی ڈویژن بنچ نے سڑک کے کنارے تجاوزات سے متعلق دائر ایک پی آئی ایل کی سماعت کے بعد یہ ہدایات دیں۔ دراصل پربھات گاندھی کی جانب سے نینی تال ضلع کے پدم پوری اور کھٹانی میں سڑک کے کنارے سرکاری زمین پر تجاوزات کو لے کر ہائی کورٹ کو خط لکھا گیا تھا۔اس خط کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی دائر خط میں کہا گیا ہے کہ پدم پوری اور کھٹانی میں شاہراہ کے ساتھ سرکاری اور جنگلاتی اراضی پر قبضہ کرکے دکانیں اور تجارتی ادارے بنائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مندر بھی بن چکا ہے ۔عدالت نے نینی تال کے ڈی ایم وندنا اور ڈی ایف او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات کے ساتھ تجاوزات ہٹانے کی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے دونوں سے 4 ہفتوں میں تعمیل رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کو بھی کہا ہے ۔ اس کے علاوہ اس معاملے کا مکمل نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے تمام شاہراہوں اور سڑکوں سے سرکاری اور جنگلاتی اراضی پر قائم تجاوزات کو ہٹانے کی ہدایات دی ہیں۔