مولانا سجاد نعمانی کا صدر مجلس
اسدالدین اویسی کو دوسرا مکتوب
حیدرآباد۔23 جنوری (سیاست نیوز) اترپردیش انتخابات کے سلسلہ میں 12 جنوری کو مولانا سجاد نعمانی کا بیرسٹر اسد الدین اویسی کے نام جاری کردہ کھلے مکتوب اور اس میں 100نشستوں پر مقابلہ نہ کرنے اور ظالم قوتوں کو شکست سے دوچار کرنے کے مشورہ کے بعد مولاناسجاد نعمانی پر کی جانے والی تنقیدوں پر مولانا نے آج ایک اور مکتوب جاری کرتے ہوئے ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ وہ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی قائدانہ صلاحیتوں کے مخالف نہیں ہیں’ملت کے عزیز نوجوانوں کے نام مولانا سجاد نعمانی کا محبت بھرا پیغام‘کے عنوان سے جاری کئے گئے مکتوب میں اپنے سابقہ مکتوب کے بعض جملوں کو نقل کیا اور آخر میں تحریر کئے گئے جملہ میں کہا کہ اللہ کوگواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے نزدیک ملت اسلامیہ ہندیہ کو اویسی جیسے سیاسی قائد کی سخت ضرورت ہے ‘ لیکن میرے نزدیک آنے والے اترپردیش انتخابات میں انہیں 100نشستوں کے بجائے صرف ان نشستوں سے اپنے امیدوار اتارنے چاہئے جن پر ان کی کامیابی کی قوی امید ہو۔انہوںنے مکتوب میں واضح کیا کہ وہ مسلم مخلص قیادت کے لئے اپنی معمولی سی بساط بھر کوشش اور دعاء کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نوجوان ان کے جذبات اور منشاء کو بہتر طریقہ سے سمجھ لیں گے ۔انہوں نے ان کے اسد الدین اویسی کے نام تحریر کئے گئے مکتوب کی تائید اور مخالفت کرنے والوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔مولانا سجاد نعمانی کا یہ مکتوب ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جبکہ گذشتہ یوم صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اترپردیش انتخابات کے لئے ’بھاگیداری پریورتن مورچہ‘ کے نام سے نئے اتحاد اور تمام 403 نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی نقشبندی کی جانب سے 12 جنوری کو جاری کئے گئے مکتوب کے بعد مختلف گوشوں سے ان کی حمایت و تائید کا سلسلہ جاری تھا لیکن گذشتہ یوم اترپردیش انتخابات میں نئے اتحاد کے اعلان کے بعد اب دوسرا مکتوب سامنے آیا ہے اور اس مکتوب میں بھی مولانا سجاد نعمانی نے اپنے موقف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسد الدین اویسی یا ان کی جماعت کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ ان کی ستائش کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق کی بنیاد پر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں صرف انہی نشستوں سے انتخابات میں حصہ لینا چاہئے جہاں سے کامیابی کے قوی امکانات ہیں۔م