لکھنؤ: یوپی بورڈ میں کلاس 9 سے 12 کے طلباء ویر ساورکرکی سوانح حیات کا مطالعہ کریں گے۔ ساورکرکے علاوہ 50 دیگر عظیم آدمیوں کی زندگی کے ابواب کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں دین دیال اپادھیائے، مہاویر جین، پنڈت مدن موہن مالویہ، اروند گھوش، راجہ رام موہن رائے، سروجنی نائیڈو، نانا صاحب، چندر شیکھر، رام کرشنا پرمہنس اور دیگر شامل ہیں۔ یوپی کے وزیر تعلیم گلاب دیوی نے کہا کہ ان ابواب کو شامل کرنے کا مقصد ان بچوں کی اخلاقی اور ثقافتی اقدارکو مضبوط کرنا ہے جو بڑے ہوکر قوم کی تعمیر میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مایوس ہو رہی ہیں اور اس اقدام پر تنقیدکر رہی ہیں۔ دریں اثنا، سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے یوپی حکومت سے ویر ساورکر کے باب کو شامل کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا ہے۔ ایس پی کے ترجمان سنیل ساجن نے کہا کہ ریاستی حکومت کو ویر ساورکر کی تعریف کرنے کے لیے لاکھوں آزادی پسندوں سے معافی مانگنی چاہیے جنہوں نے برطانوی حکمرانوں سے معافی مانگ کر ان کے جذبات کو دھوکہ دیا تھا۔