اترپردیش میں انسانوں سے زائد گائے کو بچانے پر توجہ

   

گائے کے لیے خصوصی ہیلپ لائن کا قیام ، چیف منسٹر یوگی آدتیہ حکومت پر کڑی تنقیدیں
حیدرآباد۔ اتر پردیش میں جہاں آکسیجن کی قلت اور دواخانوں میں بستروں کی قلت کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے دوران ریاستی حکومت نے گائے کے لئے ہیلپ لائن کا آغاز کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست اتر پردیش میں انسانوں سے زیادہ گائے کی اہمیت ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو دیکھتے ہوئے ریاست اترپردیش کی کارکردگی پر شدید اعتراضات گذشتہ کئی ہفتوں سے کئے جا رہے ہیں اور چیف منسٹر اتر پردیش نے انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ آکسیجن کی قلت اور دواخانوں میں بستروں کی قلت کے علاوہ دیگر اطلاعات سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کریں لیکن اب حکومت اترپردیش کی جانب سے ریاست میں گائے کے لئے ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا ہے جس پر مختلف گوشوں سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ریاست میں انسانی جانوں کو درپیش خطرات اور ان حالات میں ہیلپ ڈیسک کے قیام کے ذریعہ گائے کے لئے سہولتوں کی فراہمی پر شدید اعتراض کیا جا رہاہے۔ گائے کے لئے ہیلپ ڈیسک کے قیام کے متعلق ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے تمام اضلاع میں گائے کی سہولت کیلئے ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے اور اس ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ گائے کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں۔ اترپردیش میں شمشان گھاٹ میں لکڑی کی قلت اور کئی دواخانوں میں بستر نہ ہونے کے علاوہ آکسیجن کی قلت کے مسائل کے سلسلہ میں شکایات موصول ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس پر عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔