اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے لیے تمام حربوں کا استعمال

   

افغانستان کے حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ، مسلم نوجوانوں کو ہراسانی
حیدرآباد۔15ستمبر(سیاست نیوز) اتر پردیش انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے تما م حربوں کو استعمال کررہی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ انتخابی ماحول کو فرقہ وارانہ اعتبار سے پراگندہ کرنے کی کوششوں کے ساتھ اب افغانستان کے حالات سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے افغانستان اور طالبان کو بار بار خبروں میں رکھتے ہوئے مخصوص طبقہ کو خوفزدہ کرنے کے ساتھ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کرتے ہوئے ان الزامات کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ اگر مخالف مسلم جماعت کو اقتدار حاصل نہیں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں طالبان جیسی ذہنیت کو ہندستان میں فروغ حاصل ہونے لگ جائے گا۔ گذشتہ یوم دہلی میں نوجوانو ں کی گرفتاری اور ان پر عائد کئے جانے والے الزامات کے علاوہ قومی ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے چلائی جانے والی خبروں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست اتر پردیش میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو طالبان کا سہارا ضروری ہوچکا ہے۔ مثال مشہور ہے اور کہا جاتا ہے کہ’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘اسی طرح اب اتر پردیش میں کامیابی کے لئے بی جے پی نے طالبان کا سہارا لیتے ہوئے خوف پھیلانا شروع کردیا ہے اور اکثریتی طبقہ میں خوف و دہشت پھیلانے کے لئے نہ صرف ذرائع ابلاغ اداروں بلکہ ایجنسیوں کا بھی استعمال کیا جا رہاہے اور اس خوف میں اضافہ کے لئے مسلم نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا جانے لگا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اترپردیش میں کامیابی کے حصول کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اپوزیشن کو کمزورکرنے ووٹ کی تقسیم کرنے کے علاوہ طبقاتی نظام کو ہوا دیتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن 15 اگسٹ کو کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد اترپردیش میں انتخابی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے سخت گیر مذہبی منافرت پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اکثریتی طبقہ میں طالبان کا خوف اور اقلیتوں میں گرفتاری کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کوششوں کو کامیاب بنانے میں نام نہاد مبصرین اور جنہوں نے کبھی افغانستان میں قدم نہ رکھا ہوگا وہ قومی ٹی وی چیانلس پر افغانستان کے حالات پر تبصرہ اور ہندستان کے لئے طالبان کو خطرہ قرار دے رہے ہیں جو کہ بالواسطہ طور پر اکثریتوں میں طالبان کے متعلق خوف پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس خوف کا فائدہ اٹھانے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے۔M